بینک الفلاح کا افغانستان سے اخراج: کابل اور ہرات کی برانچیں غضنفر بینک کے حوالے

بینک الفلاح نے کابل اور ہرات کی برانچیں افغانستان کے غضنفر بینک کو منتقل کر دیں، تقریباً 20 سال بعد اخراج۔ صارفین پر کیا اثر پڑے گا؟

Inside a Ghazanfar Bank branch with the bank's blue sign
تصویر: Profit

بینک الفلاح نے افغانستان چھوڑ دیا ہے۔ پاکستانی بینک نے جمعہ 6 نومبر کو بتایا کہ اس نے اپنا افغان کاروبار افغانستان کے نجی بینک غضنفر بینک کو منتقل کرنے کا عمل مکمل کر لیا ہے، یوں وہاں تقریباً دو دہائیوں کا سلسلہ ختم ہو گیا۔

یہ سودا کابل اور ہرات کی دونوں برانچوں، ان کے اثاثوں اور واجبات پر مشتمل ہے۔ بینک الفلاح کے مطابق اب متعلقہ ریگولیٹرز کے قواعد کے مطابق افغان برانچوں کے لائسنس بند کرنے کا عمل مکمل کیا جائے گا۔

یہ فروخت کیسے ہوئی

  • دسمبر 2025: بینک الفلاح کے بورڈ نے افغان کاروبار کے لیے غضنفر بینک کی غیر پابند پیشکش قبول کی۔ قیمت ظاہر نہیں کی گئی۔
  • جنوری 2026: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اصولی منظوری دی، اور افغانستان کے مرکزی بینک، دا افغانستان بینک، نے غضنفر کو کھاتوں کی جانچ شروع کرنے کی اجازت دی۔
  • 6 نومبر 2026: بینک نے منتقلی مکمل ہونے کا اعلان کیا۔

یہ بینک کی پہلی کوشش نہیں تھی۔ 2019 میں اس نے یہی کاروبار عزیزی بینک کو بیچنے کی کوشش کی تھی، مگر افغان مرکزی بینک نے وہ تجویز مسترد کر دی تھی۔

اب کیوں چھوڑا؟

اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان میں بینکاری مشکل ہو گئی۔ افغانستان کے بیرونی ذخائر منجمد ہوئے، بین الاقوامی ادائیگیاں دشوار ہو گئیں اور زیادہ تر ممالک اب بھی حکومت کو باضابطہ تسلیم نہیں کرتے۔ صرف دو برانچوں والے غیر ملکی بینک کے لیے اس کا مطلب چھوٹے کاروبار پر بھاری تعمیلی اخراجات تھا۔

بینک نے فروخت کی قیمت نہیں بتائی۔ ایک مارکیٹ تجزیہ کار کے مطابق افغان یونٹ چھوٹا تھا، صرف دو برانچیں، اس لیے اس اخراج سے بینک الفلاح کی بیلنس شیٹ یا منافع پر کوئی نمایاں فرق نہیں پڑنا چاہیے۔

صارفین کے لیے اس کا کیا مطلب ہے

کابل اور ہرات کی برانچوں کے اکاؤنٹ ہولڈرز اب غضنفر بینک کے صارف ہوں گے، کیونکہ ان کے ڈپازٹس اور قرضے برانچوں کے ساتھ منتقل ہو گئے۔ پاکستان میں صارفین متاثر نہیں ہوں گے: ملک میں بینک الفلاح کی برانچیں، کارڈز اور ایپ معمول کے مطابق چلتی رہیں گی۔

اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ سرحد پار موجود پاکستانی بینکوں کی تعداد کم ہو گئی ہے، ایسے وقت میں جب دونوں ملکوں کی تجارت پہلے ہی دباؤ میں ہے۔ لائسنس بند ہونے کے آخری مراحل پر نظر رکھیں، جن کی اطلاع بینک کے مطابق ریگولیٹرز کی منظوری کے بعد دی جائے گی۔

مزید پڑھیں