پاکستانی ڈرامے نیٹ فلکس پر کیوں نہیں؟ ہمایوں سعید: پہلے اپنا او ٹی ٹی پلیٹ فارم بنائیں
علی سلمان سے طویل گفتگو میں ہمایوں سعید نے کہا کہ پاکستان کو پہلے اپنا اسٹریمنگ پلیٹ فارم بنانا ہوگا اور حکومت کو مدد کرنی چاہیے۔ ان کی پوری دلیل۔


پاکستانی ڈراموں کو یوٹیوب پر کروڑوں ویوز ملتے ہیں، تو نیٹ فلکس پر اتنے کم کیوں ہیں؟ ہمایوں سعید کے پاس اس کا جواب ہے، اگرچہ وہ نہیں جو مداح سننا چاہتے ہیں۔ 26 اکتوبر کو جاری ہونے والے این جے اسپاٹ لائٹ کے پوڈکاسٹ کوئی رہ تو نہیں گیا میں میزبان علی سلمان سے 95 منٹ کی گفتگو میں اداکار اور پروڈیوسر نے کہا کہ پاکستان کو پہلے اپنا او ٹی ٹی پلیٹ فارم چاہیے اور حکومت کو اس کا ساتھ دینا چاہیے۔
ہمایوں سعید نے نیٹ فلکس کے بارے میں کیا کہا؟
انہوں نے انداز سے بات شروع کی۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق ان کا کہنا تھا: “ہمارے ڈراموں کا ایک خاص انداز ہے، تحریر کا بھی اپنا انداز ہے۔” برانڈ سنیریو کے مطابق ان کا خیال ہے کہ یہ انداز ہمیشہ نیٹ فلکس کے معیار سے میل نہیں کھاتا۔
انہوں نے پہلے سے بنے ڈراموں کو کم نہیں سمجھا: “اگر آپ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے بنے ہوئے ڈرامے نیٹ فلکس پر جائیں، تو ہاں، ہمارا اپنا انداز ہے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیٹ فلکس کے پاکستان کے بارے میں رویے میں سیاست کا کردار ہو سکتا ہے، مگر انہیں نہیں معلوم کہ مقامی ڈرامے وہاں کب پہنچیں گے۔ برانڈ سنیریو کے مطابق انہوں نے سیاست کو واحد وجہ نہیں کہا۔
پہلے پاکستانی او ٹی ٹی کیوں؟
ان کی دلیل یہ ہے کہ ڈرامے کہاں بنتے ہیں، صرف یہ نہیں کہ کہاں بکتے ہیں:
- “جہاں پلیٹ فارم ہوگا، وہاں چیزیں بنیں گی۔”
- “پاکستانی او ٹی ٹی بنے گا، لوگ اپنا کام دکھائیں گے، پھر نیٹ فلکس آئے گا۔”
- “بھارت میں بھی پہلے یہی او ٹی ٹی پلیٹ فارم آئے تھے۔”
- “میرے خیال میں حکومت کو اس پر کچھ کرنا چاہیے اور اسے اہمیت دینی چاہیے۔”
یعنی گھر کا پلیٹ فارم وہ مختصر اور جرات مندانہ سیریز بنوائے گا جو عالمی اسٹریمرز خریدتے ہیں، اور لکھاریوں اور اداکاروں کو دکھانے کے لیے کام ملے گا۔
ہانیہ عامر، ڈب اسمیش اور دی کراؤن
گفتگو اسٹریمنگ سے بہت آگے گئی۔ ہمایوں سعید نے کہا کہ سوشل میڈیا نئے لوگوں کو سامنے لاتا ہے، اگرچہ آن لائن شہرت یہ چھپا سکتی ہے کہ کسی کو اداکاری آتی ہے یا نہیں، اور مثال دی: “میں نے بھی ہانیہ کو ڈب اسمیش پر دیکھا اور پھر ہم نے انہیں ڈرامے میں لیا، تو صلاحیت موجود ہے۔” انہوں نے بتایا کہ اتفاقیہ آڈیشن سے پہلے وہ ایک فیکٹری میں کام کرتے تھے، اور کہا کہ نیٹ فلکس کی دی کراؤن میں ڈاکٹر حسنات خان کا کردار کرتے ہوئے انہوں نے نظم و ضبط سیکھا، جس کا کریڈٹ انہوں نے ساتھی اداکارہ الزبتھ ڈیبکی کی توجہ کو دیا۔ موازنہ کرتے ہوئے کہا: “یہاں ہم پروڈیوسر اتنے منظم نہیں، تو اداکاروں کو بھی وقت لگے گا۔”
انہوں نے اپنی شہرت کو بھی کم کر کے بیان کیا: “میں خود کو اسٹار نہیں سمجھتا، یہ بس میرا کام ہے۔” ان کے مطابق اسٹار فہد مصطفیٰ اور فواد خان ہیں۔
کیا وہ درست کہہ رہے ہیں؟
کسی حد تک۔ بھارت میں اسٹریمنگ کی ترقی ہاٹ اسٹار جیسے مقامی پلیٹ فارمز کے اوریجنلز سے شروع ہوئی، نیٹ فلکس اور ایمیزون نے بعد میں بڑا پیسہ لگایا۔ مگر پاکستان یہ کوشش کر چکا ہے: ٹیپ میڈ اور اے آر وائی زیپ جیسے پلیٹ فارم موجود ہیں، اور پاکستانی فنکاروں والی زی فائیو سیریز نے مختصر سیریز کی مانگ دکھائی۔ کمی پیسے اور ملک میں ادائیگی کرنے والے ناظرین کی رہی ہے، اور یہیں ان کا حکومتی مدد کا مطالبہ آتا ہے۔
اصل امتحان یہ ہوگا کہ کوئی چینل یا پروڈکشن ہاؤس، بشمول ان کا اپنا سکس سگما پلس، اسٹریمنگ کے لیے پہلے ڈرامے بنانے کا وعدہ کرتا ہے یا نہیں۔ رپورٹس کے مطابق جوانی پھر نہیں آنی 3 پر کام جاری ہے، یعنی ان کا اپنا اگلا داؤ سینما پر ہے۔
ذرائع
- NJ Spotlight on YouTube: Humayun Saeed, Koi Reh Tu Nahi Gaya with Ali Salman
- The Express Tribune: Humayun Saeed calls for Pakistan's own OTT platform to take dramas global
- Brandsynario: Humayun Saeed says Pakistani dramas aren't at Netflix's level yet
- 24 News: Why are Pakistani dramas still missing from Netflix?
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



