حنا الطاف کی لندن ویڈیو: پاکستان میں لڑکی ہونے پر کیا کہا اور سوشل میڈیا کیوں بٹ گیا

وطن واپسی سے پہلے حنا الطاف نے کراچی کو "جیل" کہا اور کہا کہ پاکستان میں لڑکی ہونا جرم جیسا لگتا ہے۔ پورا پس منظر اور بحث کے دونوں رخ۔

Hina Altaf in a mustard top, smiling outdoors
تصویر: Hina Altaf/Instagram

اداکارہ حنا الطاف نے لندن میں اپنے آخری دن کی ایک مختصر ویلاگ ویڈیو سے پاکستان میں خواتین کی آزادی پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ لندن کی ایک سڑک پر عینک اور سردیوں کے ایئرمف پہنے چلتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ کراچی کی “جیل” واپس جانے سے پہلے اپنے “آخری ناشتے” اور “آزادی کے آخری گھنٹے” انجوائے کرنا چاہتی ہیں۔

سب سے زیادہ پھیلنے والا جملہ اس کے بعد آیا: ان کے بقول پاکستان میں خواتین آزادی سے جی نہیں سکتیں، سانس نہیں لے سکتیں، اور “پاکستان میں لڑکی ہونا جرم جیسا لگتا ہے”۔ آخر میں انہوں نے لندن کا شکریہ ادا کیا کہ یہاں ان کا قیام بہت اچھا رہا۔

ان کا اصل مطلب کیا تھا؟

انداز ہلکا پھلکا اور طنزیہ تھا، مگر بات پرانی ہے: پاکستان میں خواتین اکثر سڑکوں پر اس طرح آزادی سے نہیں چل سکتیں جیسے وہ لندن میں چل رہی تھیں، بغیر گھورتی نظروں، فقروں یا اس سے بدتر کے۔ اس ہفتے انٹرٹینمنٹ پیجز کے انسٹاگرام پر ری پوسٹ کرنے کے بعد یہ کلپ تیزی سے پھیلا۔

حنا الطاف پہلی بار تحفظ کے بارے میں نہیں بولیں۔ اس سے پہلے بھی انہوں نے کام کی جگہ پر ایک ایسے واقعے کا ذکر کیا تھا جس میں انہوں نے خود کو غیر محفوظ محسوس کیا، اور انڈسٹری میں ہراسانی پر جوابدہی کا مطالبہ کیا تھا۔

لوگوں کا ردِعمل

تبصرے دو حصوں میں بٹ گئے۔

  • “وہ ٹھیک کہہ رہی ہیں”: بہت سے صارفین نے کہا کہ انہوں نے ایک تلخ حقیقت بیان کی ہے اور پاکستان میں عوامی جگہیں خواتین کے لیے، بلکہ کسی کے لیے بھی، محفوظ نہیں۔
  • “تو وہیں رہ جائیں”: کچھ نے ان پر بیرونِ ملک بیٹھ کر ملک کے خلاف بولنے کا الزام لگایا اور کہا کہ وہ برطانیہ میں ہی رہیں۔

جب بھی کوئی مشہور شخصیت کیمرے پر ایسی بات کہتی ہے تو یہی تقسیم سامنے آتی ہے، اور اصل سوال پیچھے رہ جاتا ہے۔

ہماری رائے

طنزیہ انداز کی وجہ سے اس بات کو نظرانداز کرنا آسان ہے، مگر جس نے بھی کراچی یا لاہور میں اکیلے بازار جانے کی کوشش کی ہو وہ ان کی بات پہچان لے گی۔ یہ کہنا بھی درست ہے کہ “جیل” کا لفظ ایسی شخصیت کے منہ سے مبالغہ لگتا ہے جو آزادی سے سفر کر سکتی ہے اور لندن کی چھٹیاں برداشت کر سکتی ہے؛ زیادہ تر پاکستانی خواتین چند ہفتوں کے لیے بھی اس مسئلے سے دور نہیں جا سکتیں۔

دونوں باتیں سچ ہو سکتی ہیں۔ کسی سیلیبرٹی کا سرسری جملہ پالیسی دستاویز نہیں ہوتا، مگر اس پر ردِعمل بتاتا ہے کہ یہ موضوع اب بھی کتنا حساس ہے۔ حنا الطاف نے تنقید پر مزید کوئی بات نہیں کی۔

مزید پڑھیں