اوپن اے آئی نے پیئر کمپیوٹر خرید لیا، گِٹ ہب کو ٹکر دینے کی تیاری

اوپن اے آئی پیئر کمپیوٹر خرید رہی ہے اور اس کا کوڈ اسٹوریج کوڈیکس میں شامل ہوگا۔ یہ مائیکروسافٹ کے گِٹ ہب کے لیے چیلنج کیوں ہے اور پروگرامرز کے لیے کیا بدلے گا؟

OpenAI buys Pierre Computer to take on GitHub: what it means for coders
تصویر: Digital Akhbaar graphic

اوپن اے آئی ڈیولپر ٹولز بنانے والی ایک چھوٹی کمپنی پیئر کمپیوٹر کو خرید رہی ہے، جس کی کوڈ اسٹوریج ٹیکنالوجی پہلے سے اوپن اے آئی کے کوڈنگ ایجنٹ کوڈیکس میں استعمال ہو رہی ہے۔ کمپنی نے بدھ 4 نومبر کو اس سودے کی تصدیق کی۔ قیمت نہیں بتائی گئی اور سودے کو ابھی ریگولیٹرز کی منظوری درکار ہے۔

بظاہر یہ ایک چھوٹی خریداری ہے، مگر اس سے اوپن اے آئی سیدھا گِٹ ہب کے مقابلے پر آ گئی ہے، جہاں دنیا کا زیادہ تر کوڈ رکھا جاتا ہے۔ گِٹ ہب مائیکروسافٹ کی ملکیت ہے، اور مائیکروسافٹ ہی اوپن اے آئی کا سب سے بڑا سرمایہ کار ہے۔

پیئر کمپیوٹر کیا بناتی ہے؟

پیئر کی اصل پراڈکٹ “کوڈ اسٹوریج” ہے، جسے کمپنی گِٹ پر بنا ایسا نظام کہتی ہے جو مشینوں کے استعمال کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ آسان الفاظ میں: گِٹ وہ نظام ہے جس میں پروگرامر اپنے کوڈ کا ہر ورژن محفوظ کرتے ہیں، اور گِٹ ہب یہ کوڈ لوگوں کے لیے آن لائن رکھتا ہے۔ پیئر نے اس کا ایسا ورژن بنایا جو اے آئی ایجنٹس کے لیے ہے، جو انسانوں سے کہیں زیادہ تیزی اور کثرت سے کوڈ بھیجتے اور اٹھاتے ہیں۔

اوپن اے آئی یہ کوڈ اسٹوریج کوڈیکس میں شامل کرے گی۔ پیئر کے موجودہ صارف سودا مکمل ہونے کے بعد بھی یہ سروس استعمال کر سکیں گے، اور اس کے اوپن سورس پروجیکٹ بھی اوپن سورس ہی رہیں گے۔

نشانہ گِٹ ہب کیوں؟

اے آئی کوڈنگ نے کوڈ ہوسٹنگ پر بوجھ بڑھا دیا ہے۔ ایجنٹس کے خودکار کام کی وجہ سے گِٹ ہب کو حالیہ مہینوں میں کئی بار بندش اور خرابیوں کا سامنا رہا۔ حریف کمپنیاں اس موقع سے فائدہ اٹھا رہی ہیں:

  • ایلون مسک کی اسپیس ایکس کی ملکیت کرسر نے اگست میں گِٹ ہب کا حریف “اوریجن” لانچ کیا۔
  • گِٹ ہب کے سابق سربراہ تھامس ڈومکے نے اپنی کوڈنگ کمپنی بنائی اور پچھلے مہینے ایک مقابل پراڈکٹ کا اعلان کیا۔
  • اوپن اے آئی نے حال ہی میں اپنا گِٹ نظام “پانڈو” متعارف کرایا، جس کے بارے میں کمپنی کا کہنا ہے کہ اس سے کوڈ بھیجنے کا وقت تقریباً 80 فیصد کم ہوا۔

پیئر کی ٹیکنالوجی پانڈو کے ساتھ جڑ کر اوپن اے آئی کو ایسی جگہ دے سکتی ہے جہاں کوڈ لکھنے والا ایجنٹ اور کوڈ رکھنے کی جگہ ایک ہی پراڈکٹ میں ہوں۔

مائیکروسافٹ کا زاویہ

مائیکروسافٹ اوپن اے آئی کے تقریباً ایک چوتھائی حصے کی مالک ہے اور گِٹ ہب کوپائلٹ بیچتی ہے، جو کوڈیکس کا حریف ہے۔ اوپن اے آئی کا اپنا کوڈ گھر بنانا اس بات کی ایک اور نشانی ہے کہ دونوں شراکت دار اب کئی میدانوں میں ایک دوسرے کے مقابل ہیں۔

پاکستانی ڈیولپرز کے لیے اس کا مطلب

فوری طور پر کچھ نہیں بدلے گا۔ نوکریوں، اوپن سورس اور کلائنٹ پروجیکٹس کے لیے گِٹ ہب ہی معیار ہے، اور فری لانسرز کو اپنا پورٹ فولیو وہیں رکھنا چاہیے۔ بدل یہ رہا ہے کہ اے آئی ایجنٹس کہاں کام کرتے ہیں۔ اگر کوڈیکس اپنا کوڈ اپنے نظام میں رکھنے لگا تو اس پر چلنے والی ٹیموں کا کوڈ دو جگہوں پر بٹ سکتا ہے۔

آگے یہ دیکھنا ہوگا کہ کوڈیکس گِٹ ہب کا مکمل متبادل دیتا ہے یا صرف ایجنٹس کے لیے اسٹوریج، اس کی قیمت کیا ہوگی، اور مائیکروسافٹ اس کا جواب کیسے دیتی ہے۔ اوپن اے آئی نے سودا مکمل ہونے کی تاریخ نہیں بتائی۔

مزید پڑھیں