کلاڈ کوڈ اب کسی موجودہ ویڈیو گیم کی نقل نہیں بنائے گا: اینتھروپک کا نیا اصول

اینتھروپک نے کلاڈ کوڈ کو کسی موجودہ گیم کی نقل بنانے سے روک دیا ہے، چاہے نام بدل دیا جائے۔ اصول کیا ہے، کیا اب بھی ممکن ہے اور پاکستانی ڈویلپرز کے لیے مطلب۔

The Claude logo from Anthropic
تصویر: Anthropic

اینتھروپک نے اپنے اے آئی کوڈنگ اسسٹنٹ کلاڈ کوڈ میں ایک نیا اصول شامل کیا ہے جس کے تحت وہ کسی مخصوص موجودہ ویڈیو گیم کی نقل نہیں بنائے گا، چاہے صارف اس کا نام بدل دے یا اسے اپنا اوریجنل کہے۔ ڈویلپرز کی نشاندہی کے بعد کمپنی نے اس تبدیلی کی تصدیق کی اور کہا کہ نئے گیمز، کسی صنف کے گیمز اور ڈویلپر کے اپنے ڈیزائن اور اثاثوں سے بنے گیمز پر کام جاری رہے گا۔

اصول کیا کہتا ہے

یہ تبدیلی ایکس پر Chasm کے نام سے لکھنے والے ایک ڈویلپر نے پکڑی، جنہیں 27 اکتوبر کے آس پاس کلاڈ کوڈ میں ایک نئی ہدایت ملی۔ اس میں لکھا ہے کہ کسی مخصوص موجودہ گیم کی نقل نہ بنائی جائے، چاہے اس کا نام بدلا گیا ہو یا اسے اوریجنل کہا جائے۔ صارف اسے بند نہیں کر سکتے۔

اینتھروپک نے کوئی الگ اعلان جاری نہیں کیا۔ کمپنی کے ترجمان نے ادارے کے ٹیکنیکل اسٹاف کے رکن ایڈی عثمانی کی پوسٹ کا حوالہ دیا، جنہوں نے لکھا کہ کمپنی نے اوپس 5.5 پر کلاڈ کوڈ کی ہدایات میں “دو جملے” شامل کیے ہیں تاکہ وہ کسی اور کے مخصوص گیم کی نقل نہ بنائے، “کیونکہ کلاڈ کے ذریعے کسی کی دانشورانہ ملکیت کی خلاف ورزی ہماری پالیسی کے خلاف ہے”۔

کیا اب بھی بنایا جا سکتا ہے

عثمانی کے مطابق تین طرح کے منصوبے چلتے رہنے چاہئیں:

  • مکمل طور پر نیا گیم،
  • کسی جانی پہچانی صنف کا گیم، جیسے پلیٹ فارمر، ریسنگ یا میچ تھری پزل،
  • آپ کے اپنے ڈیزائن اور اثاثوں سے بنا گیم۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی ڈویلپر کا اپنا منصوبہ غلطی سے رد ہو تو وہ مثالیں انہیں بھیجیں، اور اینتھروپک “صحیح توازن” کے لیے اسے بہتر کرتی رہے گی۔ کچھ گیم ڈویلپرز کہہ چکے ہیں کہ ماڈل نے ان کے اپنے گیمز پر کام، جیسے اینٹی چیٹ کوڈ، سے بھی انکار کیا۔

یہ کیوں ہوا

اے آئی کوڈنگ ٹولز سے کسی مشہور گیم کی شکل اور طریقہ کار کی نقل بنانا بہت آسان ہو گیا ہے، اور چھوٹے اسٹوڈیوز پریشان ہیں۔ پچھلے مہینے ڈیجیٹل سن گیمز نے اے آئی نقلوں کے خوف سے اپنے گیم ری ویمپ کا عوامی ٹیسٹ منسوخ کر دیا، اور کم از کم ایک اور اسٹوڈیو نے بھی نجی ٹیسٹ کا راستہ اپنایا۔ 27 اکتوبر کو بوسان میں ایک تقریب میں اسٹیم کی مالک کمپنی والو نے نقلوں کا مسئلہ تسلیم کیا لیکن کوئی نیا اصول اعلان نہیں کیا۔

ہماری رائے

یہ اصول محدود ہے۔ یہ “اس گیم کی کاپی بنا دو” جیسی آسان درخواستیں روکتا ہے، گیم ڈویلپمنٹ سیکھنے والوں کو نہیں۔ ناقدین کہتے ہیں کہ کوئی پکا نقال اوپن ماڈل استعمال کر لے گا، اور اے آئی واقعی یہ نہیں جانچ سکتی کہ کوئی ڈیزائن کس کا ہے۔

پاکستان کے بڑھتے گیم اسٹوڈیوز اور فری لانس ڈویلپرز کے لیے، جو اکثر غیر ملکی کلائنٹس کے لیے یونٹی اور ویب گیمز بناتے ہیں، سیدھا مشورہ یہ ہے: اے آئی کو اپنا ڈیزائن ڈاکیومنٹ اور اثاثے دیں، کسی کمپنی کے گیم کا نام لینے کے بجائے صنف بیان کریں، اور کلائنٹ سے ملنے والے آرٹ کی ملکیت کا ثبوت رکھیں۔ فری لانس سائٹس پر کسی مشہور گیم کی “کلون” مانگنے والے کام پہلے بھی قانونی طور پر خطرناک تھے، اب بڑے اے آئی ٹولز بھی ان میں کم مدد کریں گے۔

آگے دیکھنا یہ ہے کہ اینتھروپک اس اصول کو باقاعدہ شائع کرتی ہے یا نہیں، اور کیا دوسرے اے آئی کوڈنگ ٹولز بھی یہی راستہ اپناتے ہیں۔

مزید پڑھیں