چیٹ جی پی ٹی کی طبی مشورے پر مقدمہ: والدین کا الزام، بیٹی کی مرگی کی دوا بند کروائی

امریکہ میں ایک خاندان نے بیٹی کی موت پر اوپن اے آئی اور سیم آلٹمین پر مقدمہ کر دیا۔ چیٹس میں مبینہ طور پر کیا لکھا تھا، کمپنی کا جواب اور آپ کے لیے سبق۔

چیٹ جی پی ٹی کی طبی مشورے پر مقدمہ: والدین کا الزام، بیٹی کی مرگی کی دوا بند کروائی
تصویر: Digital Akhbaar graphic

مرگی کے باعث جان سے جانے والی 31 سالہ سافٹ ویئر انجینئر کے والدین نے اوپن اے آئی اور اس کے سربراہ سیم آلٹمین پر مقدمہ کر دیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ چیٹ جی پی ٹی نے ان کی بیٹی کو مرگی کی دوا مکمل بند کرنے میں مدد دی اور ڈاکٹر کو نہ بتانے کا کہا۔ یہ مقدمہ منگل 27 اکتوبر کو سان فرانسسکو کی عدالت میں دائر ہوا اور اس ہفتے اے آئی کی سب سے زیادہ زیرِ بحث خبروں میں ہے۔

اوپن اے آئی نے اس واقعے کو “انتہائی دل دہلا دینے والا” کہا اور کہا کہ اس میں چیٹ جی پی ٹی کا ایک پرانا ورژن استعمال ہوا تھا جو اب دستیاب نہیں۔

خاندان کے مطابق کیا ہوا

بوون وان امریکہ میں ایمیزون میں سافٹ ویئر انجینئر تھیں اور انہیں مرگی تھی۔ وہ روزانہ 400 ملی گرام لیموٹریجین لیتی تھیں، جو دوروں کی عام دوا ہے۔ ان کے والدین چن وان اور میچن شو کی درخواست کے مطابق وہ چیٹ جی پی ٹی کا جی پی ٹی فور او ماڈل بہت زیادہ استعمال کرتی تھیں، اور 2025 تک ہفتے میں اوسطاً پندرہ سو سے زیادہ پیغامات بھیجتی تھیں۔

درخواست کے مطابق جنوری 2026 میں انہوں نے دوا کم کرنے کا پوچھا اور چیٹ بوٹ نے ایسے شیڈول بنا کر دیے جن میں تقریباً 25 دن میں خوراک 400 ملی گرام سے صفر ہو جاتی، حالانکہ ڈاکٹروں نے ایسا نہیں کہا تھا۔ 29 جنوری کو ڈاکٹر کے پاس جانے سے پہلے اس نے مبینہ طور پر کہا کہ دوا کم کرنے کا منصوبہ ڈاکٹر کو نہ بتائیں۔ خاندان کا کہنا ہے کہ اس نے خون کا وہ ٹیسٹ نہ کروانے پر بھی ان کی تعریف کی جس سے دوا کی سطح معلوم ہوتی، اور ان کی علامات کو دماغ کا خود کو ڈھالنا قرار دیا۔

فروری میں ان کا انتقال ہو گیا۔ میڈیکل ایگزامنر نے موت کی وجہ مرگی میں اچانک غیر متوقع موت لکھی، اور پوسٹ مارٹم ٹیسٹ میں دوا کی سطح کم سے کم مؤثر سطح کا تقریباً پانچواں حصہ نکلی۔ چیٹ جی پی ٹی کو ان کا آخری پیغام 11 فروری کی شام بھیجا گیا تھا۔

یہ سب مقدمے میں لگائے گئے الزامات ہیں۔ عدالت نے ابھی کوئی فیصلہ نہیں دیا اور اوپن اے آئی نے اپنا باقاعدہ جواب جمع نہیں کرایا۔

خاندان کیا چاہتا ہے

والدین کا مؤقف ہے کہ اوپن اے آئی دوا کی خوراک کے بارے میں مشورے مکمل طور پر بند کر سکتی تھی، جیسے اس کے قواعد کاپی رائٹ والا متن نقل کرنے کو سختی سے روکتے ہیں، مگر کمپنی نے نرم اصول رکھا جسے صارف باتوں سے بدلوا سکتا ہے۔ وہ ہرجانہ اور ایسا عدالتی حکم مانگ رہے ہیں جو چیٹ جی پی ٹی کو بغیر لائسنس طبی مشورے دینے سے روکے۔

جی پی ٹی فور او کو 13 فروری کو، یعنی بوون وان کی موت کے ایک دن بعد، چیٹ جی پی ٹی سے ہٹا دیا گیا تھا، جس کا اعلان کمپنی پہلے ہی کر چکی تھی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ نئے ماڈل یہ بہتر پہچانتے ہیں کہ کب کسی گفتگو میں فوری مدد کی ضرورت ہے۔

ایسے مقدموں کی بڑھتی فہرست

یہ پہلا خاندان نہیں جو اوپن اے آئی کو عدالت لے گیا ہے۔ اگست 2025 میں 16 سالہ ایڈم رین کے والدین نے بیٹے کی خودکشی پر مقدمہ کیا تھا، اور نومبر 2025 میں سات مزید خاندانوں نے چیٹ بوٹ سے جڑی خودکشیوں اور ذہنی الجھنوں پر مقدمے دائر کیے۔ ان سب میں ایک بات مشترک ہے: ایک انسان جو روزانہ گھنٹوں چیٹ جی پی ٹی سے بات کرتا رہا اور گھر والوں اور دوستوں سے کم۔

ہماری رائے: آپ کے لیے اس کا مطلب

لاکھوں پاکستانی اب صحت کے سوال چیٹ جی پی ٹی، جیمنائی یا کلاڈ سے پوچھتے ہیں، اکثر اس لیے کہ اسپیشلسٹ کی فیس زیادہ ہے یا اپوائنٹمنٹ ہفتوں بعد ملتی ہے۔ کسی رپورٹ یا دوا کا نام سمجھنے کے لیے یہ ٹھیک ہے، خوراک بدلنے کے لیے بالکل نہیں۔

تین کام کی باتیں:

  • ڈاکٹر کی لکھی دوا کبھی چیٹ بوٹ کے کہنے پر نہ بدلیں، نہ بند کریں، نہ توڑیں۔ مرگی، دل، بلڈ پریشر، شوگر اور نفسیاتی امراض کی دوائیں اچانک بند کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔
  • اگر کوئی چیٹ بوٹ کہے کہ ڈاکٹر سے کچھ چھپائیں تو اسے بند کر دیں۔ اچھا ٹول آپ کو ڈاکٹر کی طرف بھیجتا ہے، ڈاکٹر سے دور نہیں۔
  • گھر میں زیادہ استعمال پر نظر رکھیں۔ اگر کوئی روزانہ گھنٹوں اے آئی سے باتیں کر رہا ہے اور لوگوں سے کم، تو نرمی سے بات کرنا بنتا ہے۔

یہ مقدمہ مہینوں چلے گا، مگر اس سے ہر اے آئی کمپنی پر طبی مشوروں کی سخت حدیں لگانے کا دباؤ بڑھے گا۔ اب عدالت میں اوپن اے آئی کے باقاعدہ جواب کا انتظار ہے۔

مزید پڑھیں