امریکی مڈٹرم کے اثرات: ڈیموکریٹس کو 2030 تک وفاقی عدلیہ پر کنٹرول حاصل
امریکی سینیٹ میں اکثریت جیتنے کے بعد ڈیموکریٹس 2030 تک ججوں کی تقرریوں کے نگراں بن گئے، سپریم کورٹ کے قدامت پسند ججوں پر نظریں جم گئیں۔

امریکہ کے حالیہ مڈٹرم انتخابات کے نتائج کے بعد واشنگٹن میں سب سے اہم تبدیلی وفاقی عدلیہ کے کنٹرول میں سامنے آئی ہے۔ سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی اکثریت قائم ہونے کے بعد اب 2030 تک وفاقی ججوں کی توثیق کا مکمل اختیار ڈیموکریٹس کے پاس آ گیا ہے۔
معروف امریکی ادارے این پی آر کی قانونی رپورٹ کے مطابق، سینیٹ کی جوڈیشری کمیٹی کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد ڈیموکریٹس تمام وفاقی اپیل اور ضلعی عدالتوں کے ججوں کے تقرر کے فیصلے کریں گے۔
سینیٹ کے کنٹرول کی اہمیت
امریکی آئین کے تحت صدر جج کو نامزد کرتا ہے لیکن اس کی حتمی منظوری سینیٹ دیتی ہے۔ سینیٹ میں اکثریت کے بغیر کوئی جج بینچ پر نہیں بیٹھ سکتا:
- پانچ سالہ کنٹرول: سینیٹ کے انتخابی شیڈول کے باعث ڈیموکریٹس کا یہ عدالتی اثر کم از کم اگلے پانچ سال تک برقرار رہے گا۔
- سپریم کورٹ کی نشستیں: سپریم کورٹ کے سینئر قدامت پسند ججوں، 78 سالہ جسٹس کلیرنس تھامس اور 76 سالہ سیموئل علیٹو کے ریٹائرمنٹ کے منصوبے اب تعطل کا شکار ہو سکتے ہیں۔
- نئے جج کا انتخاب: اگر سپریم کورٹ کی کوئی نشست خالی ہوتی ہے تو سینیٹ کی منظوری کے لیے دونوں جماعتوں کے درمیان مفاہمت ناگزیر ہوگی۔
یہ پیش رفت امریکی عدلیہ کی پالیسیوں اور بین الاقوامی تجارتی اور قانونی تنازعات پر دور رس اثرات مرتب کرے گی۔



