2030 ورلڈ کپ فائنل تنازع: ہسپانوی رہنما کی مراکش کے معاملے پر بائیکاٹ کی دھمکی
ہسپانوی اپوزیشن لیڈر البرٹو فیخو نے دھمکی دی ہے کہ اگر فیفا نے 2030 ورلڈ کپ کا فائنل اسپین کے بجائے مراکش کو دیا تو اسپین میزبانی سے دستبردار ہوجائے۔

2030 کے فیفا ورلڈ کپ کے فائنل کے مقام پر شدید سیاسی تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ اسپین کی اہم اپوزیشن جماعت کے رہنما البرٹو نونیز فیخو نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ٹورنامنٹ کا فائنل اسپین کے بجائے مراکش کو دیا گیا تو اسپین کو ورلڈ کپ کی میزبانی مکمل طور پر چھوڑ دینی چاہیے۔
ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے فیخو نے کہا کہ اسپین کی فٹبال تاریخ اور اسٹیڈیمز فائنل کے حقیقی حقدار ہیں اور مراکش کو ترجیح دینا اسپین کی توہین ہوگی۔
فائنل کے میزبان پر رسہ کشی
2030 کا ورلڈ کپ تاریخی طور پر تین براعظموں میں شیئر کیا جا رہا ہے، جس کی بنیادی میزبانی اسپین، پرتگال اور مراکش کے پاس ہے، جبکہ ابتدائی تین میچز جنوبی امریکہ میں کھیلے جائیں گے۔
تاہم فائنل کے مقام پر دونوں ممالک میں سخت مقابلہ جاری ہے:
- اسپین کا دعویٰ: اسپین ریئل میڈرڈ کے سینٹیاگو برنابیو یا بارسلونا کے کیمپ نو اسٹیڈیم میں فائنل کرانا چاہتا ہے۔
- مراکش کا نیا اسٹیڈیم: مراکش نے کاسابلانکا کے قریب 1 لاکھ 15 ہزار نشستوں پر مشتمل گرینڈ اسٹیڈیم حسن دوم کی تعمیر شروع کی ہے، جو دنیا کا سب سے بڑا فٹبال اسٹیڈیم ہوگا۔
- فیفا کا موقف: فیفا کا کہنا ہے کہ فائنل کے مقام کے بارے میں حتمی فیصلہ تمام تکنیکی جائزوں کے بعد کیا جائے گا۔
ہسپانوی حکومت اور فٹبال فیڈریشن نے اپوزیشن رہنما کے بیانات سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسپین مشترکہ میزبانی کے معاہدے کا پابند رہے گا۔



