پی آئی اے کے نئے سی ای او ایڈرین ہیملٹن مینز کون ہیں؟
ایڈرین ہیملٹن مینز نے پیر کو پی آئی اے کی کمان سنبھال لی۔ ان کا ایئرلائن ریکارڈ، وہ کس کی جگہ آئے اور نئے مالکان ان سے کیا چاہتے ہیں۔

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کو نیا چیف ایگزیکٹو مل گیا ہے۔ پی آئی اے بورڈ نے پیر 2 نومبر کو اعلان کیا کہ ایڈرین ہیملٹن مینز نے عہدہ سنبھال لیا ہے، اور منگل تک ان کا نام پاکستان میں گوگل پر سب سے زیادہ تلاش کیے جانے والے ناموں میں شامل تھا۔
وہ ایئر وائس مارشل عامر حیات کی جگہ آئے ہیں، جو تقریباً ساڑھے چار سال قومی ایئرلائن کے سربراہ رہے۔
ایڈرین ہیملٹن مینز کون ہیں؟
پی آئی اے کے اعلان کے مطابق ان کے پاس ہوابازی کے شعبے کا 30 سال سے زیادہ کا تجربہ ہے، وہ تین ایئرلائنز کے سی ای او رہ چکے ہیں اور کئی دوسری ایئرلائنز میں اعلیٰ عہدوں پر کام کر چکے ہیں۔ بورڈ نے ان کی تقرری کو ادارے کی تبدیلی کا “اہم باب” قرار دیا۔
ان کی پچھلی ذمہ داری عمان کی سستی ایئرلائن سلام ایئر کے سی ای او کی تھی، جہاں یکم اکتوبر سے نیا سربراہ آ چکا ہے۔ اس سے پہلے وہ 2020 سے 2024 تک قازقستان کی فلائی اریستان کے صدر اور سی ای او رہے، جو ایئر آستانہ گروپ کی سستی ایئرلائن ہے۔ وہ افریقہ کی نئی ایئرلائن فلائی افریقہ کے بانی سی ای او بھی تھے اور انہوں نے کیریئر کا آغاز ایئر نیوزی لینڈ سے کیا۔ ورجن آسٹریلیا اور ساؤتھ افریقن ایئرویز میں بھی کام کر چکے ہیں۔
یہ تقرری ابھی کیوں اہم ہے؟
نجکاری کے بعد پی آئی اے میں یہ پہلی بڑی قیادت کی تبدیلی ہے۔ عارف حبیب کی سربراہی میں ایک کنسورشیم نے پچھلے دسمبر 135 ارب روپے کی بولی لگا کر ایئرلائن کے 75 فیصد حصص خریدے اور جون 2026 میں انتظام سنبھالا۔
نئے مالکان سرمایہ لگا رہے ہیں: ہفتے کے آخر میں پی آئی اے کا پہلا لیز شدہ بوئنگ 787-9 ڈریم لائنر اسلام آباد پہنچا، اور یورپ اور برطانیہ کی پروازوں پر پابندی ختم ہونے کے بعد ایئرلائن ان روٹس کو بڑھانا چاہتی ہے۔
یعنی نئے سی ای او کے سامنے زیادہ جہاز، زیادہ روٹس اور برسوں کے خسارے کو منافع میں بدلنے کا کام ہے۔
لوگ کیا سوال اٹھا رہے ہیں؟
ان کا زیادہ تر کیریئر سستی ایئرلائنز میں گزرا ہے، جہاں ٹکٹ سستا ہوتا ہے اور اضافی سہولتوں کے پیسے الگ لگتے ہیں۔ پی آئی اے مکمل سروس والی ایئرلائن ہے جس کا عملہ بڑا ہے اور حج و عمرہ کی پروازیں بھی چلتی ہیں۔ ہوابازی پر نظر رکھنے والے کچھ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ کیا یہ تجربہ پی آئی اے کے لیے موزوں ہے، جبکہ حامی کہتے ہیں کہ فلائی اریستان ان کے دور میں تیزی سے بڑھی۔
پی آئی اے نے ابھی یہ نہیں بتایا کہ وہ کرایوں، روٹس یا عملے میں کیا تبدیلیاں لائیں گے۔
عامر حیات کا دور
پی آئی اے نے اپنے بیان میں مشکل وقت میں قیادت پر عامر حیات کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کے دور میں حفاظتی معیار بہتر ہوا، یورپ اور برطانیہ کی پروازوں پر پابندیاں ہٹیں اور ایئرلائن نجکاری کے لیے تیار ہوئی۔
نئے سی ای او کے منصوبوں کی پہلی جھلک غالباً پی آئی اے کے سرمائی شیڈول اور اگلے ڈریم لائنرز کی آمد کے ساتھ سامنے آئے گی۔



