بائنانس ہیک: نکلوانا بند، ایکسچینج کے مطابق نقصان 6.3 ارب ڈالر
بائنانس کا کہنا ہے کہ ایک انجینئر کے لیپ ٹاپ کے ذریعے حملہ ہوا۔ کیا آپ کا پیسہ محفوظ ہے اور پاکستانی صارفین اب کیا کریں؟

دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو ایکسچینج بائنانس نے تمام ڈپازٹ اور رقم نکلوانے کی سہولت روک دی ہے۔ یہ کرپٹو کی تاریخ کی سب سے بڑی چوری ہو سکتی ہے۔ ایکسچینج کے مطابق کل نقصان تقریباً 6.3 ارب ڈالر ہے، جس میں سے لگ بھگ 3 ارب ڈالر بلاک چین پر منجمد کیے جا چکے ہیں، اور وہ ہر صارف کا نقصان پورا کرے گا۔
جمعرات کی رات پاکستان میں “بائنانس ہیکڈ” سب سے زیادہ سرچ کی جانے والی باتوں میں شامل رہا۔
بائنانس کے ساتھ ہوا کیا؟
جمعرات 29 اکتوبر کو صارفین نے بتانا شروع کیا کہ بائنانس کے ہاٹ والیٹس سے رقم نکل رہی ہے۔ ہاٹ والیٹ وہ آن لائن والیٹ ہوتے ہیں جن سے روزانہ کی ادائیگیاں ہوتی ہیں۔ چند گھنٹوں میں بائنانس کے بانی چانگ پینگ ژاؤ (سی زیڈ) نے ایکس پر لکھا کہ یہ “واقعی ہیک لگتا ہے”۔ وہ اب کمپنی نہیں چلاتے لیکن سب سے بڑے شیئر ہولڈر ہیں۔
بائنانس نے پہلے کہا کہ وہ “ممکنہ سیکیورٹی مسئلے” کی تحقیقات کر رہا ہے، پھر کئی نیٹ ورکس پر رقم نکلوانا احتیاطاً روک دیا۔ بعد میں تمام ڈپازٹ، نکلوانا اور بائنانس الفا پر ٹریڈنگ بھی روک دی گئی۔
حملہ آور اندر کیسے پہنچے؟
بائنانس نے ایکس پر بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق کمپنی کے ایک ڈیو آپس انجینئر کا لیپ ٹاپ ہیک ہوا، جس سے حملہ آور ایک سروس کنٹینر تک پہنچا اور غیر مجاز ٹرانزیکشنز بھیجیں۔ کمپنی کے مطابق کسی والیٹ کی پرائیویٹ کی لیک ہونے کا ثبوت نہیں ملا۔ تحقیقات مکمل ہونے پر تفصیلی رپورٹ جاری کی جائے گی۔ ابھی تک کسی نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
کتنی رقم گئی اور کتنی بچ گئی؟
بائنانس کا اپنا اندازہ 6.3 ارب ڈالر ہے، جبکہ بلاک چین تجزیہ کار 3.3 سے 5.8 ارب ڈالر کے درمیان بتا رہے ہیں، کیونکہ کچھ رقم منتقل ہونے سے پہلے ہی روک لی گئی۔
ٹیتھر کے سربراہ پاؤلو آرڈوئنو کے مطابق ان کی کمپنی نے ڈیڑھ ارب سے زیادہ یو ایس ڈی ٹی منجمد کیے، اور سرکل نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر 80 کروڑ سے زیادہ یو ایس ڈی سی روک لیے۔ بائنانس کا منجمد رقم کا تصدیق شدہ اعداد 2.54 ارب سے بڑھ کر تقریباً 3 ارب ڈالر ہو گیا۔
اس سے پہلے سب سے بڑی کرپٹو چوری فروری 2025 میں بائی بٹ سے ہونے والی تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر کی تھی۔
کیا میرا پیسہ محفوظ ہے؟
بائنانس کا کہنا ہے کہ “صارفین کے فنڈز مکمل طور پر محفوظ ہیں” اور تمام نقصان اس کے سیفو ایمرجنسی فنڈ اور کمپنی کے پیسوں سے پورا کیا جائے گا۔ سی زیڈ نے بھی کہا کہ انہیں امید ہے صارفین کا پورا نقصان پورا ہو گا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب تک رقم نکلوانا بحال نہیں ہوتا، کوئی اپنے کوائن باہر نہیں لے جا سکتا، اور بائنانس نے ابھی تاریخ نہیں دی۔
مارکیٹ پر بھی اثر پڑا۔ جمعہ کی صبح بٹ کوائن چھ ہفتوں کی کم ترین سطح تقریباً 77 ہزار 600 ڈالر اور ایتھر دو ماہ کی کم ترین سطح تقریباً 2 ہزار 239 ڈالر تک گر گیا۔
پاکستانی صارفین اب کیا کریں
پاکستان میں بہت سے فری لانسر اور نوجوان بائنانس کی پی ٹو پی مارکیٹ سے یو ایس ڈی ٹی خریدتے اور بیچتے ہیں۔ آج یہ کام کریں:
- گھبرا کر بیچیں نہیں۔ قیمتیں اوپر نیچے ہو رہی ہیں اور رقم ویسے بھی نکل نہیں سکتی۔
- “ریکوری” کی پیشکش سے بچیں۔ بائنانس نے خبردار کیا ہے کہ غیر سرکاری لنکس یا اکاؤنٹ کی معلومات مانگنے والوں پر بھروسہ نہ کریں۔
- پی ٹو پی آرڈر چیک کریں۔ اگر کوئی سودا ادھورا تھا تو اسکرین شاٹ رکھیں اور صرف ایپ کے اندر سپورٹ سے رابطہ کریں۔
- سیکیورٹی سیٹنگز آن کریں: ٹو ایف اے، اینٹی فشنگ کوڈ اور وائٹ لسٹ۔
اب نظر اس پر ہے کہ بائنانس کب تفصیلی رپورٹ جاری کرتا ہے اور رقم نکلوانا کب بحال ہوتا ہے۔



