ایشین چیمپئنز ٹرافی ہاکی فائنل: بھارت نے جاپان کو 1-4 سے ہرا دیا

بھارت نے موہالی میں ایک گول کے خسارے سے واپس آ کر جاپان کو 1-4 سے ہرایا اور مسلسل تیسری بار، ریکارڈ چھٹی بار ٹائٹل جیتا۔

India's men's hockey team celebrating with the Asian Champions Trophy in Mohali
تصویر: Hockey India

بھارت نے جمعرات کی رات موہالی کے اولمپین بلبیر سنگھ سینیئر انٹرنیشنل ہاکی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فائنل میں جاپان کو 1-4 سے شکست دے کر مسلسل تیسری بار مردوں کی ایشین چیمپئنز ٹرافی اپنے نام کر لی۔ یہ مقابلے میں بھارت کا ریکارڈ چھٹا ٹائٹل ہے، اور یہ جیت اس کے باوجود آئی کہ میچ کا بیشتر حصہ بھارت ایک گول سے پیچھے رہا۔

فائنل کا پانسہ کیسے پلٹا

جاپان نے جلد ہی برتری حاصل کر لی۔ کازوماسا ماتسوموتو نے تیسرے منٹ میں گول کیپر سورج کرکیرا کو چکمہ دیا، اور آدھے سے زیادہ میچ میں جاپان نے گیند کے پیچھے کھلاڑی جمع کر کے یہ برتری سنبھالے رکھی۔

دباؤ 42ویں منٹ میں رنگ لایا۔ پنالٹی کارنر پر جاپانی گول کیپر کیشو کورودا نے پہلا وار روکا، لیکن شیلانند لاکڑا سب سے پہلے ڈھیلی گیند تک پہنچے اور قریب سے گول کر کے اسکور برابر کر دیا۔ جاپان نے فلک کی اونچائی پر احتجاج کیا، مگر ٹی وی امپائر نے گول برقرار رکھا۔

اس کے بعد بھارت نے چھ منٹ میں تین گول کیے:

  • 48’ دلپریت سنگھ، ہردک سنگھ کے پاس پر
  • 53’ جگراج سنگھ، پنالٹی کارنر سے
  • 54’ سکھجیت سنگھ، ویویک ساگر پرساد کی زوردار ہٹ کو ڈیفلیکٹ کر کے

فائنل کا فیصلہ مقررہ وقت میں ہی ہو گیا، شوٹ آؤٹ کی نوبت نہیں آئی۔

گھر کی سرزمین پر ناقابلِ شکست

بھارت نے ٹورنامنٹ کا ہر میچ جیتا۔ چھ ٹیموں کا یہ مقابلہ 27 اکتوبر سے 5 نومبر تک جالندھر اور موہالی میں کھیلا گیا۔ بھارت نے گروپ مرحلے میں بھی جاپان کو 1-4 سے ہرایا تھا اور سیمی فائنل میں جنوبی کوریا کو 1-8 سے روند ڈالا۔

ہاکی انڈیا کے مطابق کپتان ہرمن پریت سنگھ 10 گولوں کے ساتھ ٹاپ اسکورر رہے اور انہیں ٹورنامنٹ کا ہیرو قرار دیا گیا۔ اس کارکردگی کے ساتھ ان کے بین الاقوامی گولوں کی تعداد 250 ہو گئی۔ کرشن بہادر پاٹھک کو ٹورنامنٹ کا بہترین گول کیپر چنا گیا۔

ہردک سنگھ نے فائنل میں اپنا 200واں بین الاقوامی میچ کھیلا، جبکہ نیلاکانتا شرما نے بھارت کے لیے آخری میچ کھیلا۔ ہاکی انڈیا نے ہر کھلاڑی کے لیے 3 لاکھ روپے اور سپورٹ اسٹاف کے ہر رکن کے لیے ڈیڑھ لاکھ روپے کا اعلان کیا۔

ملائیشیا نے جمعرات ہی کو جنوبی کوریا کو 2-5 سے ہرا کر کانسی کا تمغہ جیتا۔ 2013 اور 2021 میں رنر اپ رہنے والا جاپان اب بھی اپنے پہلے ٹائٹل کا منتظر ہے۔

پاکستانی شائقین کی دلچسپی کیوں

پاکستان اس بار مقابلے میں شریک نہیں تھا۔ دونوں پڑوسی ملک آخری بار 2018 میں مسقط میں ایشین چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں آمنے سامنے آئے تھے، جب بارش نے میچ دھو ڈالا اور ٹائٹل مشترکہ رہا؛ بھارت کے چھ ٹائٹلز میں وہ بھی شامل ہے۔ پاکستان کی اپنی جیتیں 2012 اور 2013 میں آئیں، یعنی اس مشترکہ 2018 کے ٹائٹل سے پہلے۔

مزید پڑھیں