سندھ ہائیکورٹ کا یونٹی فوڈز کا بورڈ ازسرنو تشکیل دینے کا حکم
سندھ ہائیکورٹ نے یونٹی فوڈز کا بحران ختم کرنے کے لیے بورڈ کی ازسرنو تشکیل کا حکم دیا، ولمار پاکستان کو اکثریتی نمائندگی مل گئی۔

سندھ ہائیکورٹ نے معروف کمپنی یونٹی فوڈز لمیٹڈ کو اپنا بورڈ آف ڈائریکٹرز فوری طور پر ازسرنو تشکیل دینے کا متفقہ حکم جاری کر دیا ہے تاکہ کمپنی کے طویل انتظامی تعطل اور بحران کو ختم کیا جا سکے۔
عدالتی حکم کے تحت خالی نشستوں کو پُر کر کے ولمار پاکستان ہولڈنگز اور اس کے گروپ کو بورڈ میں اکثریتی نمائندگی دی جائے گی۔
انتظامی بحران کا پس منظر
یونٹی فوڈز حالیہ مہینوں میں اس وقت ریگولیٹری بحران کا شکار ہوئی جب کئی اہم ڈائریکٹرز نے یکے بعد دیگرے استعفے دیے:
- ڈائریکٹرز کی قانونی تعداد میں کمی: استعفوں کے بعد بورڈ میں صرف دو ڈائریکٹرز رہ گئے تھے، جبکہ کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت کم از کم سات ڈائریکٹرز کا ہونا لازمی ہے۔
- ایس ای سی پی کے نوٹسز: سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے کارپوریٹ گورننس کی خلاف ورزی پر نوٹسز جاری کیے۔
- عدالتی تنازع: ولمار اور مقامی شراکت داروں کے درمیان کمپنی کے کھاتوں اور مالی معاملات پر تنازعات عدالت تک پہنچے۔
عدالتی فیصلے کے اہم نکات
عدالت کا متفقہ حکم کمپنی کے امور کو معمول پر لانے میں مدد دے گا:
- بورڈ کی خالی نشستیں پُر کی جائیں گی اور ولمار گروپ کو اکثریتی اختیارات دیے جائیں گے۔
- کمپنی کے مالیاتی آڈٹ اور بقایا جات کی جانچ پڑتال نئے بورڈ کی نگرانی میں ہوگی۔
- پاکستان اسٹاک ایکسچینج اور ایس ای سی پی میں تمام ضروری دستاویزات بروقت جمع کرائی جائیں گی۔
یونٹی فوڈز پاکستان میں کھانے کے تیل اور اشیائے خورونوش کے بڑے سپلائرز میں سے ایک ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بورڈ کے تنازع کے حل سے اسٹاک مارکیٹ میں کمپنی کے حصص پر مثبت اثر پڑے گا۔



