ایس ای سی پی نے پونزی اور پیرامڈ اسکیموں پر پابندی لگا دی: 10 خطرے کی نشانیاں

ایس ای سی پی کے نئے قواعد میں پہلی بار پونزی، پیرامڈ اور دھوکے والی ایم ایل ایم اسکیموں کی تعریف کی گئی ہے۔ جانیں کن نشانیوں سے بچنا ہے اور کیا اب بھی جائز ہے۔

The Securities and Exchange Commission sign on a building wall
تصویر: Express Tribune

سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے نئے قواعد جاری کیے ہیں جن میں پہلی بار قانونی طور پر بتایا گیا ہے کہ پونزی اسکیم، پیرامڈ اسکیم اور دھوکے والی ملٹی لیول مارکیٹنگ (ایم ایل ایم) کیا ہوتی ہے، اور کمپنیوں پر انہیں چلانے یا ان کی تشہیر پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ یہ کمپنیز (پرہیبیشن آف ان لافل ایکٹیویٹیز) ریگولیشنز 2026 منگل 3 نومبر کو جاری ہوئے۔

عام آدمی کے لیے سب سے کام کی چیز خطرے کی نشانیوں کی فہرست ہے۔ اگر واٹس ایپ، ٹک ٹاک یا فیس بک پر کوئی “سرمایہ کاری” یا “کاروباری موقع” ان باتوں پر پورا اترتا ہے تو وہ اب ایس ای سی پی کے قواعد کے تحت غیر قانونی ہے۔

ایس ای سی پی کی بتائی ہوئی نشانیاں

  1. زیادہ تر کمائی نئے لوگ بھرتی کرنے سے ہو، اصل چیز بیچنے سے نہیں۔
  2. پرانے ممبروں کو نئے ممبروں کے پیسوں سے ادائیگی ہو۔
  3. یقینی یا غیر حقیقی منافع کا وعدہ ہو۔
  4. بھاری جوائننگ فیس لی جائے۔
  5. آپ کو زبردستی مال یا اسٹاک خریدنا پڑے۔
  6. کمپنی یہ چھپائے کہ آپ کا پیسہ کہاں لگ رہا ہے۔
  7. پروڈکٹ کی اصل مانگ نہ ہونے کے برابر ہو۔
  8. آمدنی یا پروڈکٹ کے بارے میں گمراہ کن دعوے۔
  9. نکلنا چاہیں تو رقم واپسی کا کوئی منصفانہ انتظام نہ ہو۔
  10. سامان غیر رجسٹرڈ، غیر منظور شدہ یا غیر قانونی ہو۔

ایسی پیرامڈ اسکیمیں بھی زد میں ہیں جن کے معاہدے مبہم ہوں، خریداری کے ٹارگٹ غیر معقول ہوں یا ایک ہی شخص کو کئی “پوزیشنز” دے کر بھرتی پر انعام دیا جائے۔

یہ کن پر لاگو ہے

تمام کمپنیوں پر، ملکی ہوں یا غیر ملکی، دفتر سے کام کریں یا ویب سائٹ، ایپ اور سوشل میڈیا سے۔ پہلے سے چلنے والی اسکیمیں بھی اس میں شامل ہیں اور ان کی تشہیر یا مدد کرنے والے بھی۔

کیا اب بھی جائز ہے

اصل ڈائریکٹ سیلنگ جائز رہے گی، جس میں کمائی زیادہ تر حقیقی گاہکوں کو چیز بیچنے سے ہو، لوگ بھرتی کرنے سے نہیں۔

سزا

کمپنیز ایکٹ 2017 کی دفعہ 512(2) کے تحت کمپنی، ڈائریکٹرز اور افسران پر جرمانہ ہو سکتا ہے، اور دفعہ 301 کے تحت کمپنی بند کرنے کی کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔

ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا کہ “ہمارا مقصد جائز کاروبار کو فروغ دینا اور عوام کو، بشمول ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر چلنے والی غیر قانونی اسکیموں سے، بچانا ہے”۔

یہ اب کیوں اہم ہے

ایس ای سی پی نے فروری میں اس کا مسودہ مشاورت کے لیے جاری کیا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان میں ان اسکیموں کی کوئی واضح قانونی تعریف موجود نہیں۔ اسی خلا کی وجہ سے ان ایپس اور “ارننگ” گروپس کے خلاف کارروائی مشکل تھی جو دوستوں اور رشتہ داروں کو جوڑنے پر روزانہ منافع کا وعدہ کرتے ہیں اور ڈوبنے پر ہزاروں لوگوں کی جمع پونجی لے جاتے ہیں۔

پیسہ لگانے سے پہلے

ایس ای سی پی کا مشورہ سادہ ہے: غیر معمولی یا یقینی منافع کے وعدے سے ہوشیار رہیں، خاص طور پر جب انعام بھرتی پر ملے، اور پیسہ دینے سے پہلے کمپنی کی تصدیق کریں۔ کمپنی رجسٹرڈ ہے یا نہیں، یہ ایس ای سی پی کی ویب سائٹ پر دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ معلومات ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔

مزید پڑھیں