ایل پی جی قیمت: اوگرا ریٹ مقرر کرنا چھوڑ سکتا ہے، بی آئی ایس پی خاندانوں کو سبسڈی
پیٹرولیم ڈویژن چاہتا ہے کہ ایل پی جی سلنڈر کی قیمت اوگرا نہیں بلکہ درآمدی لاگت طے کرے اور سبسڈی صرف بی آئی ایس پی کے اہل گھروں کو ملے۔ کیا بدلے گا؟

حکومت ایل پی جی کی قیمت مقرر کرنا بند کرنا چاہتی ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے وفاقی کابینہ کو بھیجے گئے منصوبے کے تحت اوگرا گھریلو گیس سلنڈر کی ماہانہ قیمت کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کرے گا، بلکہ قیمت اس لاگت کے حساب سے طے ہو گی جو ایل پی جی درآمد کرنے پر اصل میں آتی ہے۔ مدد صرف ان غریب گھرانوں کو ملے گی جو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے معیار پر پورے اترتے ہیں۔
منصوبہ ابھی حتمی نہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے وزیر پیٹرولیم کی سربراہی میں آٹھ رکنی وزارتی کمیٹی بنائی ہے جسے جائزہ لے کر رپورٹ دینے کے لیے ایک مہینہ دیا گیا ہے۔
حکومت موجودہ نظام کو ناکام کیوں کہتی ہے؟
کاغذ پر اوگرا کی مقرر کردہ قیمت 11.57 کلو کے سلنڈر کے لیے 3,296 روپے ہے۔ لیکن دکانوں پر لوگ پچھلے مہینے ایران سرحد کا راستہ بند ہونے اور سمندری درآمد کم ہونے کے بعد سے یہی سلنڈر 6,000 سے 7,200 روپے میں خرید رہے ہیں۔
پیٹرولیم ڈویژن کے اپنے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یہ فرق نیا نہیں۔ جنوری سے جولائی 2026 کے دوران فلنگ پلانٹس پر ایل پی جی سرکاری قیمت سے 60 سے 79 روپے فی کلو مہنگی بکی، اور مارچ میں یہ فرق 158 روپے فی کلو تک پہنچ گیا۔ وزارت کا کہنا ہے کہ صارفین پہلے ہی درآمدی قیمت ادا کر رہے ہیں، بس کسی ضابطے کے بغیر۔
وزارت کے مطابق اوگرا کا فارمولا مقامی ایل پی جی کے لیے بنا تھا۔ اس میں سعودی آرامکو کی قیمت پر 35 ہزار روپے فی ٹن کا مقررہ مارجن جوڑا جاتا ہے جو 2018 سے نہیں بدلا۔ اس میں درآمدی پریمیم، جہاز کا کرایہ، انشورنس اور بندرگاہ کے اخراجات شامل نہیں۔ جون 2023 میں یہی فارمولا درآمدی ایل پی جی پر بھی لاگو کیا گیا تو سرکاری قیمت حقیقت سے اور دور ہو گئی۔
نئے منصوبے میں کیا بدلے گا؟
- قیمت کون طے کرے گا: چار سرکاری کمپنیاں، پی ایس او، ایس ایس جی سی ایل پی جی، پارکو پرل گیس اور پاکستان ایل این جی، بڑی مقدار میں ایل پی جی درآمد کر کے ماہانہ بنیادی قیمت جاری کریں گی۔
- حساب کیسے ہو گا: پچھلے مہینے کی سعودی آرامکو قیمت، درآمدی پریمیم، کرایہ، انشورنس، دیگر اخراجات اور درآمدی ٹیکس۔
- مارکیٹنگ مارجن: کمپنیاں اپنا مارجن اور ترسیل کا خرچ خود طے کریں گی اور آپس میں مقابلہ کریں گی۔ مسابقتی کمیشن اور اوگرا ملی بھگت پر نظر رکھیں گے۔
- ٹیکس برقرار: پیٹرولیم لیوی، ایکسائز ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس لاگو رہیں گے۔
- 2017 میں بنی ایل پی جی پرائسنگ کمیٹی ختم کر دی جائے گی۔
سبسڈی کس کو اور کیسے ملے گی؟
مقامی پیداوار کرنے والے اپنی ایل پی جی سعودی ریٹ سے جڑی قیمت پر بیچتے ہیں جو درآمدی قیمت سے کم ہے۔ منصوبے کے تحت یہ فرق حکومت کے پبلک اکاؤنٹ میں ایک نئے پروڈیوسر پرائس ڈیفرینشل فنڈ میں جمع ہو گا جس کا آڈٹ آڈیٹر جنرل کریں گے۔
اس فنڈ سے سبسڈی صرف ان گھرانوں کو ملے گی جو بی آئی ایس پی کے معیار پر پورے اترتے ہیں یا حکومت کے غربت اسکور (پی ایم ٹی) کی حد میں آتے ہیں۔ پیٹرولیم ڈویژن وزارت خزانہ اور بی آئی ایس پی کے ساتھ مل کر ایک مہینے میں طریقۂ کار طے کرے گا۔ اگر آپ پہلے سے بی آئی ایس پی میں رجسٹرڈ ہیں تو اپنے شناختی کارڈ کی معلومات اپ ڈیٹ رکھیں، کیونکہ اہلیت اسی فہرست سے دیکھی جائے گی۔
اعتراضات کیا ہیں؟
ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کا کہنا ہے کہ پالیسی ان سے مشورے کے بغیر بنائی گئی۔ ان کے مطابق سرکاری کمپنیوں کو ایل پی جی درآمد کا زیادہ تجربہ نہیں، مقامی ایل پی جی پر لیوی سے قیمت بڑھے گی، اور چونکہ زیادہ تر درآمد ایران اور عمان سے ہوتی ہے اس لیے قیمت کو سعودی ریٹ سے جوڑنا مناسب نہیں۔ وہ نجی درآمد کنندگان کے لیے بڑا کردار چاہتے ہیں۔
آپ کے باورچی خانے کے لیے اس کا مطلب
زیادہ تر گھرانے جو پہلے ہی مارکیٹ ریٹ دے رہے ہیں، ان کے لیے شروع میں دکان کی قیمت شاید زیادہ نہ بدلے، فرق یہ ہو گا کہ سرکاری قیمت آخرکار اصل قیمت کے برابر ہو جائے گی۔ قیمت کم ہو گی یا نہیں، یہ اس پر منحصر ہے کہ درآمد کنندگان میں مقابلہ واقعی ہوتا ہے یا نہیں۔ سب سے زیادہ فائدہ بی آئی ایس پی خاندانوں کو ہو سکتا ہے، اگر سبسڈی وقت پر ملے۔
وزارتی کمیٹی کی رپورٹ نومبر کے آخر تک آنی ہے۔ کابینہ کی منظوری تک اوگرا کا ماہانہ نوٹیفکیشن برقرار رہے گا۔
یہ معلومات ہیں، مالی مشورہ نہیں۔



