عثمان خواجہ کا سینڈ پیپر اسکینڈل پر دعویٰ: پوری آسٹریلوی ٹیم کو علم تھا

عثمان خواجہ کے مطابق 2018 کی بال ٹیمپرنگ کا ہر آسٹریلوی کھلاڑی اور اسٹاف کو پتا تھا، جبکہ کرکٹ آسٹریلیا اپنی تحقیقات پر قائم ہے۔

Usman Khawaja in Australian cricket kit
تصویر: ABC News

عثمان خواجہ کا کہنا ہے کہ 2018 میں جنوبی افریقہ میں گیند پر سینڈ پیپر کے استعمال کا پوری آسٹریلوی ٹیم کو علم تھا، صرف ان تین کھلاڑیوں کو نہیں جن پر پابندی لگی۔ اسلام آباد میں پیدا ہونے والے اس بلے باز نے یہ دعویٰ اپنی کتاب صبر میں کیا ہے۔ نائن اخبارات سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا: “ہم سب کو پتا تھا۔ بلے بازوں کو بھی، باؤلرز کو بھی، اسٹاف کو بھی۔ ہم سب کو۔”

یہی وجہ ہے کہ ہفتے کی صبح ان کا نام پاکستان میں گوگل کی ٹاپ سرچز میں آ گیا۔ کرکٹ آسٹریلیا نے اپنا مؤقف نہیں بدلا۔ ترجمان کے مطابق بورڈ اپنے انٹیگریٹی پراسیس کے نتائج سے مطمئن ہے، جس میں صرف کیمرون بینکرافٹ، اسٹیو اسمتھ اور ڈیوڈ وارنر کے نام آئے تھے۔

خواجہ کا دعویٰ کیا ہے؟

اے بی سی نیوز کے مطابق، جس نے کتاب کے مندرجات رپورٹ کیے، خواجہ چار بڑی باتیں کہتے ہیں:

  • یہ ایک ٹیسٹ پہلے شروع ہوا۔ ان کے مطابق سینڈ پیپر پورٹ ایلزبتھ (اب گکیبرہا) کے سینٹ جارجز پارک میں دوسرے ٹیسٹ میں بھی استعمال ہوا، صرف کیپ ٹاؤن کے نیولینڈز میں نہیں جہاں بینکرافٹ کیمرے میں پکڑے گئے۔
  • کپتان کمرے سے باہر چلے گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس دوسرے ٹیسٹ کے دوران ڈریسنگ روم میں ہلکے پھلکے انداز میں سینڈ پیپر کی بات ہوئی تو اسمتھ یہ کہہ کر کمرے سے نکل گئے کہ وہ کچھ نہیں جاننا چاہتے۔
  • بینکرافٹ نے خود پیشکش کی۔ ان کے مطابق بینکرافٹ نے اس ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں، جب گیند بہت سوئنگ ہو رہی تھی، اسے استعمال کرنے کی پیشکش کی۔
  • ان سے کسی نے پوچھا ہی نہیں۔ خواجہ کہتے ہیں کہ وہ کیپ ٹاؤن ٹیسٹ میں پورا وقت بینکرافٹ کے ساتھ بیٹھے رہے اور دیکھا کہ اس نوجوان اوپنر سے کون بات کرتا رہا، مگر کرکٹ آسٹریلیا کے تفتیش کار نے ان کا انٹرویو کبھی نہیں کیا۔

اے بی سی نیوز کے مطابق بال ٹیمپرنگ والے ابواب 7 نومبر تک خفیہ رکھے گئے تھے۔ خواجہ نے یہ باب بینکرافٹ، اسمتھ اور وارنر کے نام کیا ہے اور کہتے ہیں کہ اس واقعے کا بوجھ تینوں پر رہا۔

کون اس سے اختلاف کرتا ہے؟

کرکٹ آسٹریلیا کی 2018 کی تحقیقات میں پتا چلا تھا کہ صرف ان تین کھلاڑیوں کو معلوم تھا۔ بینکرافٹ پر نو ماہ کی پابندی لگی، جبکہ کپتان اسمتھ اور نائب کپتان وارنر پر بارہ بارہ ماہ کی۔ 2021 میں فاسٹ باؤلرز پیٹ کمنز، مچل اسٹارک اور جوش ہیزل ووڈ اور اسپنر ناتھن لائن نے کھل کر کہا تھا کہ انہیں اس منصوبے کا علم نہیں تھا۔

خواجہ کے اپنے حلقے سے بھی ایک آواز آئی ہے۔ ان کے بچپن کے کوچ اور سرپرست بل اینڈرسن نے پچھلے مہینے اے بی سی کے پروگرام آسٹریلین اسٹوری میں کہا کہ خواجہ نے سب کو اس بات پر مجبور کرنے کی کوشش کی کہ وہ مان لیں کہ انہیں سب پتا تھا، اور کچھ کھلاڑی اس پر تیار نہیں ہوئے۔ اب تک جن کھلاڑیوں کے نام لیے گئے، ان میں سے کسی نے کتاب پر کھل کر جواب نہیں دیا۔

وہ اب کیوں بول رہے ہیں؟

خواجہ نے اے بی سی ریڈیو نیشنل کو بتایا کہ انہیں واقعی لگتا تھا کہ آٹھ سال بعد سچ سامنے آ چکا ہو گا۔ وہ اس اسکینڈل کو «ہر قیمت پر جیت» کے کلچر سے جوڑتے ہیں، جو ان کے بقول 2010-11 کی ہوم ایشز ہارنے کے بعد پروان چڑھا، وہی سیریز جس میں انہوں نے ٹیسٹ ڈیبیو کیا۔ وہ کوچ جسٹن لینگر کو بھی سراہتے ہیں کہ انہوں نے بعد میں ٹیم میں عاجزی واپس لانے میں مدد دی، اور کہتے ہیں کہ دوبارہ موقع ملے تو وہ اپنی بات پر زیادہ مضبوطی سے ڈٹ جاتے۔

پاکستانی کیوں سرچ کر رہے ہیں

خواجہ اسلام آباد میں پیدا ہوئے، بچپن میں آسٹریلیا چلے گئے اور بیگی گرین پہننے والے پہلے پاکستان میں پیدا ہونے والے کھلاڑی بنے۔ وہ آسٹریلوی کرکٹ میں نسل اور اپنائیت کے بارے میں اکثر بات کرتے رہے ہیں، اس لیے ان کی طرف سے اتنا بڑا دعویٰ کسی افواہ جیسا نہیں لگتا۔

پھر بھی یہ ایک کھلاڑی کا بیان ہے جو ایک سرکاری نتیجے اور چار سینئر ساتھیوں کی تردید کے مقابل کھڑا ہے۔ آگے دیکھنے کی بات یہ ہے کہ مکمل کتاب آنے کے بعد اسمتھ، کمنز یا کرکٹ آسٹریلیا تفصیل سے جواب دیتے ہیں یا نہیں۔

مزید پڑھیں