پی ایس ایل 12 ریٹینشن رولز: ہر ٹیم 7 کھلاڑی رکھ سکے گی، سیلری کیپ 45 کروڑ

پی ایس ایل کی آٹھوں فرنچائزز نے پی ایس ایل 12 کے قواعد پر اتفاق کر لیا: سات کھلاڑی برقرار رکھنے کی اجازت، اس کی شرط، سیلری کیپ اور اہم تاریخیں۔

Peshawar Zalmi players celebrate with the Pakistan Super League trophy on stage
تصویر: ARY News

پی ایس ایل 12 میں ٹیمیں پچھلے سیزن کے زیادہ سے زیادہ سات کھلاڑی اپنے پاس رکھ سکیں گی، مگر جو ٹیم پورے سات رکھے گی اسے اپنا ایک مہنگا ترین کھلاڑی چھوڑنا ہوگا۔ یہ ان قواعد کی سب سے بڑی بات ہے جن پر پاکستان سپر لیگ کی آٹھوں فرنچائزز نے جمعرات 29 اکتوبر کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ایک ورکشاپ میں اتفاق کیا۔

پچھلے ہفتے پی سی بی نے ڈائریکٹ سائننگ ونڈو کھولی اور 23 جنوری کو آکشن کی تاریخ دی تھی۔ اب پوری رول بک سامنے آ گئی ہے: ٹیم کتنے کھلاڑی رکھ سکتی ہے، کتنا خرچ کر سکتی ہے اور کب تک فیصلہ کرنا ہے۔

پی ایس ایل ٹیم کتنے کھلاڑی برقرار رکھ سکتی ہے؟

  • زیادہ سے زیادہ سات کھلاڑی، اور اس گنتی میں ٹیم کی ڈائریکٹ سائننگ بھی شامل ہے۔
  • شرط: جو ٹیم پورے سات کھلاڑی رکھے گی، اسے پچھلے آکشن کی سب سے اونچی قیمت والی کیٹیگری کا ایک کھلاڑی عام پول میں چھوڑنا ہوگا۔
  • آخری تاریخ: ریٹینشن کی فہرست 13 جنوری 2027 تک جمع کرانی ہوگی، یعنی آکشن سے دس دن پہلے۔

اصل دلچسپ بات یہی شرط ہے۔ اس سے امیر ٹیمیں سارے بڑے نام اپنے پاس نہیں روک سکیں گی، اور کم از کم چند ٹاپ کیٹیگری کے کھلاڑی آکشن میں ضرور آئیں گے۔

سیلری کیپ اور خرچ کے قواعد

  • سیلری کیپ: ہر فرنچائز کے لیے 45 کروڑ روپے۔
  • زیادہ کیپ: 50.5 کروڑ روپے، اس ٹیم کے لیے جو پی ایس ایل 12 کے لیے ڈائریکٹ سائننگ کرے، پچھلے سیزن کی ڈائریکٹ سائننگ برقرار رکھے، یا دونوں کرے۔
  • کم از کم خرچ: 36.5 کروڑ روپے، یعنی تقریباً 13 لاکھ ڈالر، تاکہ کوئی ٹیم سستا اسکواڈ نہ بنا سکے۔

پی ایس ایل 12 کی اہم تاریخیں

کیا کب
ڈائریکٹ سائننگ ونڈو بند 23 نومبر 2026
ریٹینشن کی آخری تاریخ 13 جنوری 2027
پلیئر آکشن 23 جنوری 2027
سیزن کا آغاز مارچ 2027

ڈائریکٹ سائننگ میں ہر ٹیم ایک ایسا مارکی کھلاڑی لے سکتی ہے جو پی ایس ایل 10 یا 11 میں نہیں کھیلا، اس لیے امید ہے کہ فرنچائزز ان غیر ملکی ناموں کے پیچھے جائیں گی جو کچھ عرصے سے لیگ سے دور ہیں۔

پی ایس ایل نے کیا کہا

پی ایس ایل کے سی ای او سلمان نصیر نے، جنہوں نے اجلاس کی صدارت کی، بتایا کہ فرنچائزز نے اتفاق سے پہلے ایک ایک شق پر بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کی خاص بات صرف یہ نہیں کہ کیا طے ہوا، بلکہ یہ کہ کیسے طے ہوا، اور انہوں نے آٹھوں ٹیموں کی متفقہ حمایت کا ذکر کیا۔

پی سی بی چاہتا ہے کہ نیشنل ٹی 20 براہ راست آکشن سے جڑا ہو۔ بورڈ کے مطابق وہاں اچھی فارم میں کھیلنے والا کھلاڑی فوراً فرنچائزز کی نظر میں آ سکتا ہے، جو نوجوان ڈومیسٹک کھلاڑیوں کے لیے اس سردی میں اچھا کھیلنے کی بڑی وجہ ہے۔

سب سے پہلے 23 نومبر سے پہلے ڈائریکٹ سائننگ کے اعلانات دیکھنے ہوں گے، پھر جنوری میں ریٹینشن کی فہرستیں۔

مزید پڑھیں