ایورٹن بمقابلہ کونٹری 3-1: تھیرنو بیری کے دو گول، ایورٹن پانچویں نمبر پر
ایورٹن نے جمعے کو پیچھے رہ کر کونٹری کو 3-1 سے ہرا دیا، تھیرنو بیری نے دو گول کیے اور تیسرے میں مدد دی۔

ایورٹن نے جمعے کی رات، 6 نومبر کو ہل ڈکنسن اسٹیڈیم میں کونٹری سٹی کو 3-1 سے ہرا دیا۔ اسٹرائیکر تھیرنو بیری نے تقریباً پانچ منٹ میں دو گول کیے اور پھر تیسرے گول میں مدد بھی دی۔ اس جیت سے ڈیوڈ موئیز کی ٹیم پریمیئر لیگ میں پانچویں نمبر پر آ گئی، کم از کم اس ویک اینڈ پر میچ ڈے 10 کے باقی میچ ہونے تک۔
فرینک لیمپارڈ کی کونٹری کے لیے یہ سیزن کی ساتویں لیگ شکست تھی، جو پوری لیگ میں سب سے زیادہ ہے، اور وہ 16ویں نمبر پر ہی رہی۔ یہ میچ رات بھر پاکستان میں گوگل کی ٹاپ سرچز میں رہا، جہاں پریمیئر لیگ کا جمعے کا میچ رات 2 بجے کے بعد ختم ہوتا ہے۔
گول کیسے ہوئے
- 0-1، یان گبوہو: کونٹری نے دوسرے ہاف کے شروع میں گبوہو کے گول سے برتری لی۔ تولوز سے آنے کے بعد یہ ان کا پہلا گول تھا۔
- 1-1، بیری: ایورٹن صرف چار منٹ کے لگ بھگ پیچھے رہی، پھر بیری نے دور والی پوسٹ پر لہراتے ہوئے کراس کو ہیڈ سے گول میں ڈال دیا۔
- 2-1، بیری: تقریباً پانچ منٹ بعد ٹائرک جارج کی لمبی گیند پر انہوں نے الجھی ہوئی صورتحال میں دوسرا گول کیا۔ کونٹری کے کھلاڑیوں نے ہینڈ بال کی اپیل کی؛ وی اے آر نے چیک کیا اور گول برقرار رکھا۔
- 3-1، کیرنن ڈیوزبری ہال: اس بار بیری نے گول بنوایا، گیند ڈیوزبری ہال کو دی اور انہوں نے قریبی پوسٹ پر گول کر دیا۔
لیمپارڈ کی وی اے آر پر شکایات
کونٹری کا خیال تھا کہ بڑے فیصلے اس کے خلاف گئے۔ ہینڈ بال کی اپیل کے علاوہ، پنالٹی کی اپیل بھی مسترد ہوئی جب وی اے آر نے فیصلہ دیا کہ ویٹالی میکولینکو کی تائیو اووونیئی پر چیلنج باکس سے باہر تھا۔ میچ رپورٹس کے مطابق ایورٹن خوش قسمت بھی رہی جب جیمز ٹارکووسکی بظاہر کیلب یرینکی کے بال کھینچتے نظر آئے مگر پنالٹی نہیں دی گئی۔ ای ایس پی این کے مطابق لیمپارڈ تین فیصلوں سے ناخوش تھے۔
بیری کا شاندار فارم
24 سالہ فرانسیسی کھلاڑی، جنہیں 2025 میں ویارئیال سے سائن کیا گیا تھا، اس سیزن میں پریمیئر لیگ میں دو بار دو دو گول کر چکے ہیں، اور فلیش اسکور کے مطابق گولڈن بوٹ کی دوڑ میں صرف ارلنگ ہالینڈ سے پیچھے ہیں۔
ایورٹن کے لیے نومبر میں ٹاپ فائیو میں ہونا گزشتہ برسوں کی ریلیگیشن کی لڑائیوں کے بعد بڑی تبدیلی ہے۔ کونٹری کے لیے دس میچوں میں سات شکستیں اب حقیقی پریشانی بنتی جا رہی ہیں۔



