کراچی میں فلو: جناح اور سول اسپتال میں کیسز دگنے۔ فلو ہے یا زکام، اور گھر میں پھیلاؤ کیسے روکیں

کراچی کے اسپتالوں کے مطابق فلو کے کیسز تقریباً ایک ہفتے میں دگنے ہو گئے۔ فلو اور زکام میں فرق، ڈاکٹر کے پاس کب جائیں، اور گھر کی آسان احتیاطیں۔

Scientific illustration of influenza virus particles
تصویر: NIAID via Wikimedia Commons (CC BY 2.0)

ڈاکٹروں نے پیر 26 اکتوبر کو ڈان کو بتایا کہ کراچی کے دو بڑے سرکاری اسپتالوں میں صرف ایک ہفتے میں فلو کے کیسز تقریباً دگنے ہو گئے ہیں۔ جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) میں روزانہ فلو کے مریض 30-40 سے بڑھ کر 70-80 ہو گئے، اور ڈاکٹر روتھ فاؤ سول اسپتال میں 8-10 سے 30-40۔

وہاں کے ڈاکٹر اسے موسم کی تبدیلی اور ٹھنڈی راتوں سے جوڑتے ہیں۔ یہاں جانیں کہ کیا ہو رہا ہے، فلو اور زکام میں فرق کیسے کریں، اور گھر کی کون سی چھوٹی باتیں سب سے زیادہ فرق ڈالتی ہیں۔

کراچی کے ڈاکٹر کیا دیکھ رہے ہیں

جے پی ایم سی کے شعبہ ایمرجنسی کے سربراہ ڈاکٹر عرفان صدیقی نے اسپتال کے اعداد و شمار کو “برفانی تودے کی نوک” کہا: زیادہ تر لوگ پہلے محلے کے کلینک جاتے ہیں اور سنجیدہ بیمار ہونے پر ہی ایمرجنسی آتے ہیں۔ ان کے مطابق جے پی ایم سی کے بہت سے مریض 18 سے 32 سال کے ہیں اور صحت یابی میں معمول سے زیادہ وقت لگ رہا ہے۔

سول اسپتال میں ڈاکٹر عمران سرور نے بتایا کہ ایک ہی خاندان کے تین سے پانچ مریض آ رہے ہیں، یعنی اس بار وائرس گھروں میں آسانی سے پھیل رہا ہے۔ ان کے مطابق علاج زیادہ تر علامات کا ہے اور صرف چند پیچیدہ کیسز کو داخل کرنا پڑتا ہے۔

فلو ہے یا زکام؟

سب سے آسان پہچان رفتار ہے۔ زکام آہستہ آتا ہے؛ فلو چند گھنٹوں میں گرا دیتا ہے۔ امریکی ادارے سی ڈی سی کے مطابق:

  • فلو: اچانک بخار یا کپکپی، جسم میں درد (اکثر شدید)، سر درد، شدید تھکن، کھانسی اور گلے میں خراش۔ بچوں کو کبھی الٹی یا دست بھی۔
  • زکام: آہستہ آغاز، چھینکیں، بند ناک اور گلا خراب، بخار کم ہی ہوتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق فلو کی علامات عموماً لگنے کے تقریباً دو دن بعد شروع ہوتی ہیں اور زیادہ تر لوگ ایک ہفتے میں ٹھیک ہو جاتے ہیں، مگر خشک کھانسی دو ہفتے یا زیادہ رہ سکتی ہے۔

خطرے کی علامات: فوراً ڈاکٹر کے پاس کب جائیں

سی ڈی سی ان علامات پر فوری طبی مدد کا کہتا ہے:

  • سانس لینے میں دشواری یا سانس پھولنا
  • سینے میں مسلسل درد یا دباؤ
  • الجھن، مسلسل چکر یا جاگتے رہنے میں مشکل
  • پیشاب نہ آنا (بچوں میں 8 گھنٹے تک نہ آنا)
  • بچوں میں: تیز سانس، ہر سانس پر پسلیاں اندر کھنچنا، ہونٹ نیلے، یا معمول کے مطابق ردعمل نہ دینا
  • 12 ہفتے سے کم عمر بچے کو کوئی بھی بخار
  • بخار یا کھانسی جو بہتر ہو کر دوبارہ زیادہ ہو جائے

عالمی ادارہ صحت کے مطابق حاملہ خواتین، پانچ سال سے کم بچے، 65 سال سے زیادہ عمر کے لوگ، اور ذیابیطس، دل، پھیپھڑوں یا گردوں کے مریض زیادہ خطرے میں ہیں۔ انہیں انتظار کے بجائے جلد ڈاکٹر کو دکھانا چاہیے۔ خود سے اینٹی بائیوٹک شروع نہ کریں؛ فلو وائرس ہے، اور علاج کا فیصلہ ڈاکٹر کرے گا۔

گھر میں فلو کا پھیلاؤ کیسے روکیں

پاکستانی گھر میں یہی حصہ سب سے اہم ہے، جہاں کئی لوگ کمرے، باتھ روم اور ایک ہی دسترخوان بانٹتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت اور کراچی کے ڈاکٹروں کے مشوروں کی بنیاد پر:

  1. بیمار کو الگ جگہ دیں اگر ممکن ہو: الگ کمرہ یا کم از کم الگ بستر، اور اپنا گلاس، تولیہ اور پلیٹ۔
  2. صابن سے بار بار ہاتھ دھوئیں، خاص طور پر کھانا پکانے اور کھانے سے پہلے۔ صابن کچن کے سنک پر بھی رکھیں۔
  3. ٹشو یا کہنی میں کھانسیں، ٹشو پھینکیں اور ہاتھ دھوئیں۔
  4. روز کچھ دیر کھڑکی کھولیں۔ بند کمرے میں جہاں سب ساتھ بیٹھتے ہیں، تازہ ہوا مدد کرتی ہے۔
  5. بیماری میں گھر رہیں۔ دفتر یا اسکول کا ایک دن پوری ٹیم یا کلاس کو بیمار کر سکتا ہے۔
  6. آرام، نیند اور خوب پانی: پانی، یخنی، اور الٹی یا دست ہوں تو او آر ایس۔
  7. مشترکہ چیزیں صاف کریں جیسے دروازوں کے ہینڈل، ٹی وی ریموٹ اور فون۔

فلو ویکسین کا کیا؟

ڈاکٹر عرفان صدیقی کے مطابق سالانہ فلو ویکسین فلو اور اس کی پیچیدگیوں سے بچنے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔ ڈان کے مطابق پاکستان میں یہ زیادہ تر نجی اسپتالوں میں دستیاب ہے اور مہنگی ہے۔ اگر گھر میں کوئی بزرگ، حاملہ خاتون یا پرانا مریض ہے تو ڈاکٹر سے پوچھیں کہ کیا ابھی لگوانا مناسب ہے۔

یہ عمومی معلومات ہیں، طبی مشورہ نہیں۔ علامات کے بارے میں فکر ہو تو ڈاکٹر سے بات کریں۔

ذرائع

  1. Dawn: Flu cases double at Karachi hospitals in over a week amid seasonal shift
  2. CDC: Signs and symptoms of flu
  3. WHO: Influenza (seasonal) fact sheet

یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔

مزید پڑھیں