پاکستان میں آج سونے کی قیمت: 10,800 روپے کمی کے بعد فی تولہ 4 لاکھ 9 ہزار 736 روپے
دو دن میں سونا فی تولہ 15,900 روپے سستا ہو گیا۔ آج کے 24 اور 22 قیراط ریٹ، چاندی کی قیمت، کمی کی وجہ، اور اکتوبر میں اسٹاک مارکیٹ کا حال۔

پاکستان میں آج اتوار، یکم نومبر کو سونا 4 لاکھ 9 ہزار 736 روپے فی تولہ پر ہے۔ ہفتے کو اس میں 10,800 روپے کی کمی ہوئی، جو اس سال کی بڑی یک روزہ گراوٹوں میں سے ایک ہے۔ اتوار کو بازار بند ہوتے ہیں، اس لیے آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کا ہفتے کا ریٹ ہی آج چل رہا ہے۔
آج کا ریٹ (ہفتہ 31 اکتوبر کو طے شدہ)
- 24 قیراط فی تولہ: 409,736 روپے (10,800 روپے کمی)
- 24 قیراط فی 10 گرام: 351,282 روپے (9,259 روپے کمی)
- 22 قیراط فی 10 گرام: 322,020 روپے (8,487 روپے کمی)
- چاندی فی تولہ: 5,388 روپے (142 روپے کمی)
- عالمی مارکیٹ: 3,872 ڈالر فی اونس (108 ڈالر کمی)
دکاندار اپنی بنوائی الگ لیتے ہیں اور شہر کے حساب سے ریٹ میں تھوڑا فرق ہو سکتا ہے، اس لیے خریداری سے پہلے ایسوسی ایشن کا اس دن کا ریٹ ضرور پوچھیں۔
سونا اتنا کیوں گرا؟
پاکستان میں سونے کی قیمت عالمی قیمت کو روپے میں بدل کر طے ہوتی ہے۔ جمعے کو سونا پہلے ہی 5,100 روپے کم ہو کر 4 لاکھ 20 ہزار 536 روپے فی تولہ ہو چکا تھا، یوں دو دن میں کمی 15,900 روپے بنتی ہے۔ جمعرات کو ریٹ 4 لاکھ 25 ہزار 636 روپے تھا۔
ایسوسی ایشن جس عالمی ریٹ پر چلتی ہے وہ 108 ڈالر فی اونس کم تھا، اور روپے میں قیمت بھی ساتھ گر گئی۔ جنگ کا خوف بڑھے تو لوگ سونے کو “محفوظ پناہ” سمجھ کر خریدتے ہیں، اس لیے خلیج، ایران اور آبنائے ہرمز سے آنے والی خبریں اسے اتنی ہی تیزی سے دوبارہ اوپر لے جا سکتی ہیں۔
کیا ابھی خریدنا چاہیے؟
ہم خرید و فروخت کا مشورہ نہیں دیتے، اور کوئی نہیں بتا سکتا کہ اگلے ہفتے سونا کہاں ہو گا۔ اتنا ضرور ہے کہ جن گھرانوں نے آنے والے مہینوں میں شادی کے لیے زیور لینا ہے، ان کے لیے یہ اس ہفتے کا سستا ترین موقع ہے، جبکہ عروج پر خریدنے والوں کو کاغذ پر تقریباً 4 فیصد نقصان ہے۔ مختصر مدت میں سونا ہمیشہ اوپر نیچے ہوتا ہے؛ یہ طویل مدتی بچت ہے، فوری منافع کا ذریعہ نہیں۔
اسٹاک مارکیٹ: اکتوبر خسارے میں
اسٹاک مارکیٹ کا مہینہ بھی کمزور رہا۔ کے ایس ای 100 انڈیکس اکتوبر میں 3,560 پوائنٹس یعنی تقریباً 2.1 فیصد گرا اور جمعہ 30 اکتوبر کو 166,409 پر بند ہوا۔ یہ مسلسل دوسرا مہینہ ہے جب انڈیکس نیچے گیا۔
آخری ہفتہ اتار چڑھاؤ سے بھرا رہا: چار دن کی تیزی میں 4,800 سے زیادہ پوائنٹس کا اضافہ ہوا اور جمعرات کو انڈیکس 167,000 سے اوپر چلا گیا، مگر جمعے کو منافع خوری نے اسے پھر نیچے کر دیا۔ تیل کی بڑھتی قیمتیں، امریکا ایران کشیدگی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی فروخت مارکیٹ پر بوجھ بنی رہیں، جبکہ 26 اکتوبر کو اسٹیٹ بینک نے شرح سود بڑھا کر 12 فیصد کر دی تھی۔
پیر 2 نومبر کو مارکیٹ دوبارہ کھلے گی اور صرافہ ایسوسی ایشن صبح نیا ریٹ جاری کرے گی۔ یہ معلومات ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔



