اے آئی میوزک پر عروج آفتاب: "وہ آپ کی موسیقی سے اے آئی میوزک بنائے گا"، فنکاروں کو معاوضہ دو
گریمی جیتنے والی عروج آفتاب کا کہنا ہے کہ اے آئی جب گانوں سے سیکھے اور جب ان سے نئی موسیقی بنائے، دونوں بار فنکاروں کو پیسے ملنے چاہییں۔

گریمی ایوارڈ یافتہ پاکستانی گلوکارہ عروج آفتاب بھی مصنوعی ذہانت کے خلاف موسیقاروں کی جدوجہد میں شامل ہو گئی ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق اس ہفتے دو انسٹاگرام اسٹوریز میں انہوں نے کہا کہ فنکاروں کو دو بار معاوضہ ملنا چاہیے: ایک بار جب کوئی اے آئی سسٹم ان کی ریکارڈنگز سے سیکھے، اور دوسری بار جب وہ اس سیکھے ہوئے سے نئے گانے بنائے۔
عروج آفتاب نے کیا کہا؟
پہلی اسٹوری میں ایک مہم کا پیغام تھا کہ اے آئی سے بنی موسیقی پر ہر سطح پر، سافٹ ویئر بنانے والوں اور ریکارڈ لیبلز سے لے کر اسٹوڈیوز، ڈسٹری بیوٹرز اور دکانوں تک، واضح لیبل لگایا جائے تاکہ سننے والے جان سکیں کہ کیا انسان نے بنایا ہے۔ ان کا کیپشن دو ٹوک تھا: چاہے آپ موسیقی بنانے کے لیے اے آئی استعمال نہ کریں، وہ آپ کی موسیقی سے اے آئی میوزک ضرور بنائے گا۔ ساتھ لکھا کہ آئیے اصول درست کریں اور آگے بڑھیں۔
دوسری اسٹوری میں انہوں نے پیسے کی بات کی۔ انہوں نے لکھا کہ فنکار کو معاوضہ ملنا چاہیے کیونکہ اے آئی پہلے ہی ان کی موسیقی سے خود کو تربیت دے چکا ہے، یعنی یہ “استعمال” ہے۔ ان کے مطابق اس سیکھنے سے اے آئی جو نئی موسیقی بناتا ہے وہ “ماخوذ کام” ہے اور اس پر بھی اصل فنکار کو ادائیگی ہونی چاہیے۔
یہ مہم کس کی ہے؟
دونوں پیغامات یونائیٹڈ میوزیشنز اینڈ الائیڈ ورکرز (یو ایم اے ڈبلیو) کے تھے، جو موسیقی کے شعبے میں کام کرنے والوں کی ایک امریکی یونین ہے۔ یو ایم اے ڈبلیو “لیونگ ویج فار میوزیشنز ایکٹ” کے لیے مہم چلا رہی ہے، جو 2024 میں امریکی کانگریس کی رکن راشدہ طلیب نے پہلی بار پیش کیا تھا۔ یو ایم اے ڈبلیو اور ڈی جے میگ کے مطابق یہ بل اسٹریمنگ کمپنیوں کے پیسے سے ایک فنڈ بنائے گا جو ریکارڈنگ فنکاروں کو براہ راست ادائیگی کرے، اور ہدف کم از کم ایک سینٹ فی اسٹریم ہے۔ یہ ابھی قانون نہیں بنا۔
پاکستانی موسیقاروں کے لیے یہ کیوں اہم ہے؟
عروج آفتاب ان چند پاکستانی فنکاروں میں سے ہیں جن کی عالمی صنعت میں واقعی بات سنی جاتی ہے: انہوں نے 2022 میں “محبت” کے لیے گریمی جیتا اور دنیا بھر میں پرفارم کیا۔ جب وہ معاوضے پر بولتی ہیں تو بین الاقوامی سامعین اور صنعت دونوں توجہ دیتے ہیں۔
یہاں کے فنکاروں کے لیے بھی یہ مسئلہ دور کا نہیں۔ پاکستانی موسیقی اب زیادہ تر یوٹیوب اور اسٹریمنگ پلیٹ فارمز سے سفر کرتی ہے، اور جو اے آئی ٹولز مغربی موسیقی سے سیکھ رہے ہیں وہ پاکستانی گانوں سے بھی سیکھ سکتے ہیں۔ امریکہ اور یورپ میں لیبلنگ اور اجازت کے جو اصول طے ہوں گے، ان کا اثر باقی سب کی موسیقی پر بھی پڑنے کا امکان ہے۔
بڑی لڑائی
وہ اکیلی نہیں۔ ٹریبیون کے مطابق 2024 میں 13 ہزار سے زیادہ فنکاروں نے، جن میں ابا کے بیورن الویئس اور ریڈیو ہیڈ کے تھوم یارک شامل تھے، اے آئی بنانے کے لیے انسانی موسیقی کے بلا اجازت استعمال کے خلاف بیان پر دستخط کیے۔ فروری 2025 میں کیٹ بش سمیت ایک ہزار سے زیادہ موسیقاروں نے برطانیہ میں کاپی رائٹ کی مجوزہ تبدیلیوں کے خلاف ایک خاموش البم جاری کیا۔
عروج آفتاب نے ان پوسٹس کے علاوہ اپنی طرف سے کسی اقدام کا اعلان نہیں کیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کانگریس میں لیونگ ویج فار میوزیشنز ایکٹ آگے بڑھتا ہے یا نہیں، اور اسٹریمنگ پلیٹ فارمز اے آئی موسیقی پر واضح لیبل لگاتے ہیں یا نہیں۔
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



