مٹی دے باوے قسط 10 کا جائزہ: بلو کا بڑا فیصلہ اور بالا کی نئی کشش
گرین ٹی وی کے ڈرامے مٹی دے باوے کی قسط 10: بلو نے پیر صاحب کو نکاح پر راضی کر لیا، بالا کی قمرالنساء سے ملاقات۔ خلاصہ، تجزیہ اور مداحوں کا ردعمل۔


خبردار: اس تحریر میں مٹی دے باوے کی قسط 10 کی پوری کہانی موجود ہے۔
مٹی دے باوے کی قسط 10 بدھ 22 اکتوبر کی رات گرین ٹی وی پر نشر ہوئی اور اگلی دوپہر تک یوٹیوب پر سرکاری اپلوڈ 62 لاکھ سے زیادہ بار دیکھا جا چکا تھا۔ وجہ سمجھنا مشکل نہیں۔ اس قسط میں دونوں مرکزی کرداروں نے ایسے فیصلے کیے جو ناظرین کو پسند نہیں آئے، مگر دونوں فیصلے ان کرداروں کے مزاج سے پوری طرح میل کھاتے ہیں۔
قسط 10 میں کیا ہوا؟
یہ قسط سب سے پہلے بلو (ماہرہ خان) کی ہے۔ بیوہ اور سسرال سے نکالی گئی بلو پیر صاحب کے پاس اپنا مقدمہ لے کر گئی ہے اور کہتی ہے کہ وہ ایک نیک عورت ہے جس کے ساتھ مرحوم شوہر کے گھر والوں نے زیادتی کی۔ پیر صاحب اسے جانے کا کہتے ہیں تو وہ انکار کر دیتی ہے اور اپنی چال چلتی ہے: ان سے کہتی ہے کہ آپ میرے محرم بن جائیں۔ وہ مان جاتے ہیں۔ آن لائن تبصروں کے مطابق یہ اپنے بیٹوں کا مستقبل اور معاشرے میں اپنا مقام محفوظ کرنے کا منصوبہ ہے، اور ڈرامہ اسے عقیدت اور حکمت عملی دونوں کے طور پر دکھاتا ہے۔
ادھر زرینہ (امر خان) گھر میں کوثر اور جوجی کا جینا مشکل کیے ہوئے ہے، کیونکہ اسے یقین ہے کہ بالا نے بلو سے شادی کر لی ہے اور اسی کے ساتھ رہ رہا ہے۔
بالا (وہاج علی) کے پاس اب پیسہ ہے اور وہ اسے گھر والوں پر خرچ کر رہا ہے: جوجی کے لیے دکان، باقیوں کے لیے سونا۔ وہ غلام رسول کو ڈھونڈتا ہے، جس نے نذیر اور اس کے کزنز کے قتل کا الزام اپنے سر لیا تھا، مگر پتا چلتا ہے کہ وہ فوت ہو چکا ہے۔ غلام رسول کے گھر اس کی ملاقات بیوہ قمرالنساء (حنا آفریدی) سے ہوتی ہے اور وہ ٹھٹک جاتا ہے۔ ایک فلیش بیک دکھاتا ہے کہ قمرالنساء کی شادی غلام رسول سے کیسے ہوئی، اور قسط اس منظر پر ختم ہوتی ہے کہ بالا اسے ذہن سے نہیں نکال پا رہا، جبکہ زرینہ کی سرد مہری اسے اور دور دھکیل رہی ہے۔
اداکاری: ماہرہ کی چالاک بلو، وہاج کا بے چین بالا
ماہرہ خان یہاں برسوں کا اپنا بہترین کام کر رہی ہیں۔ نکاح والا منظر آسانی سے جذباتی ڈرامہ بن سکتا تھا، مگر وہ اسے چھوٹے چھوٹے سوچے سمجھے وقفوں سے ادا کرتی ہیں، یوں کبھی یقین نہیں ہوتا کہ دعا کہاں ختم ہوئی اور منصوبہ کہاں شروع۔ فلمی بیٹ کے مطابق ایکس پر مداحوں نے یہی بات پکڑی، بلو کو “ماسٹر مینیپولیٹر” کہا اور سراہا کہ وہ اپنی بات منوانے کے لیے مذہب کی زبان کیسے استعمال کرتی ہے۔
وہاج علی کا کام زیادہ مشکل ہے، کیونکہ بالا کم پسندیدہ ہوتا جا رہا ہے اور وہ اسے نرم نہیں کرتے۔ جو شخص کبھی صرف دل تھا، اب رنگے ہوئے بال، پیسہ اور بھٹکتی نظر رکھتا ہے۔ ریویو اٹ کے مطابق ناظرین اسے “ٹھرکی” کہنے لگے ہیں، اور ساتھ یہ بھی کہ وہاج نے ایک بار پھر کمال کر دیا۔ حنا آفریدی قمرالنساء کے طور پر خاموش مگر یاد رہنے والی آمد کرتی ہیں۔
تحریر اور ہدایت کاری
فائزہ افتخار کا اسکرپٹ پورے سیزن سے اسی الٹے عکس کی طرف بڑھ رہا تھا: کبھی بلو نے خاندانی عزت کو بالا پر ترجیح دی تھی، اب بالا اپنی شادی سے دور ہو رہا ہے۔ ریویو اٹ کے ایک ناظر نے خوب کہا کہ شادی کے بعد بالا وہی ہے جو شادی سے پہلے بلو تھی۔ سید وجاہت حسین کی ہدایت کاری پنجاب کے ماحول کو سجاوٹ کے بجائے جیتا جاگتا رکھتی ہے، جس سے بڑے موڑ زیادہ اثر کرتے ہیں۔
مداحوں کا ردعمل
رائے صاف بٹی ہوئی ہے۔ بہت سے ناظرین بلو کی جرات پر خوش ہیں؛ کچھ کو لگتا ہے کہ اب ڈرامہ ہمیں بالا کو وہی غلطیاں کرتے دکھا رہا ہے جن کا وہ کبھی خود شکار ہوا تھا۔ ڈان امیجز اس سے پہلے حالیہ اقساط کو ڈرامے کا سب سے طاقتور حصہ قرار دے چکا ہے اور خاص طور پر وہاج علی کی تعریف کی تھی۔
قسط 11 کے پرومو میں کیا ہے؟
قسط 11 بدھ 28 اکتوبر کو رات 8 بجے گرین ٹی وی پر نشر ہو گی۔ تبصرہ نگاروں کے مطابق اس ہفتے ایک نکاح ہوا اور ٹیزر اگلے ہفتے ایک اور نکاح کا اشارہ دیتا ہے۔ مداح اندازے لگا رہے ہیں، مگر نشر ہونے تک کچھ طے نہیں۔
ذرائع
- Green TV Entertainment (YouTube): Mitti De Baway Episode 10
- Reviewit.pk: Mitti De Baway Episode 10 - Balaa termed tharki by the audience
- Filmibeat: Mitti De Baway fans react to Billo marrying Peer Murshid
- The Other Me Unfolded: Mitti De Baway Episode 10 recap
- Dawn Images: Fans are shaken as Mitti De Baway delivers its most powerful episodes yet
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



