اوبر پر اے آئی ایجنٹس نے صرف 4 سواریاں بک کیں: ایجنٹس کا شور کتنا سچ؟
اوبر کے چیف فنانشل آفیسر کے مطابق اے آئی ایجنٹس نے صرف چار سواریاں اور تقریباً 500 کھانے کے آرڈر دیے۔ ایجنٹس کیوں نہیں چل رہے، اور پاکستانی فری لانسرز کے لیے کیا سبق ہے۔

ایک سال سے اے آئی کمپنیاں وعدہ کر رہی ہیں کہ جلد ایجنٹس ہمارے کام کریں گے: ٹیکسی بک کریں گے، کھانا منگوائیں گے، بل ادا کریں گے۔ اب اوبر نے بتا دیا کہ حقیقت کیا ہے۔ بدھ 4 نومبر کو تیسری سہ ماہی کے نتائج کی کال پر چیف فنانشل آفیسر بالاجی کرشنامورتی نے کہا کہ جس عرصے کی وہ بات کر رہے تھے، اس میں ایجنٹس کے ذریعے “کل ملا کر چار سواریاں” ہوئیں۔
کھانے کی طرف اے آئی ایجنٹس نے اوبر ایٹس پر تقریباً 500 آرڈر دیے۔ موازنے کے لیے، اوبر کے مطابق اکتوبر کے سب سے مصروف ہفتے، ہیلووین والے ہفتے میں، اس نے تقریباً 32 کروڑ سواریاں اور آرڈر سنبھالے۔
اوبر کے سربراہوں نے کیا کہا
چیف ایگزیکٹو دارا خسروشاہی نے کوئی بہانہ نہیں بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ابھی بہت ابتدائی مرحلہ ہے اور بہت محدود دلچسپی نظر آ رہی ہے۔
وجہ بھی انہوں نے سیدھے نمبروں میں بتائی: اوبر ایپ میں سواری بک کرنے میں تقریباً 50 سیکنڈ لگتے ہیں اور پسندیدہ کھانا دوبارہ منگوانے میں تقریباً 90 سیکنڈ۔ جب ایپ پہلے ہی اتنی تیز ہو تو یہ کام چیٹ بوٹ سے کروانے میں تقریباً کچھ نہیں بچتا۔
وہ ایجنٹس کو مسترد نہیں کر رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایجنٹس طلب بڑھا سکتے ہیں، ہر اے آئی کمپنی اوبر سے بات کر رہی ہے، اور وقت کے ساتھ بڑے اے آئی اسسٹنٹس کی تعداد آٹھ سے بڑھ کر دس سے زیادہ ہو جائے گی۔
اوبر اکیلا نہیں۔ ڈور ڈیش نے ایک ہفتہ پہلے اپنی کال میں بتایا تھا کہ اسے اے آئی ایجنٹس سے صرف چند سو آرڈر ملے۔
ہماری رائے: شور اور عادت کا فرق
“ایجنٹ کامرس” پر یہ اب تک کا سب سے کام کا حقیقت نامہ ہے، کیونکہ یہ ایسی کمپنی سے آیا ہے جو چاہتی ہے کہ ایجنٹس کامیاب ہوں۔
- ایجنٹ وہاں جیتتے ہیں جہاں کام سست ہو۔ دس پروازوں کا موازنہ، لمبا فارم بھرنا یا ریفنڈ کے پیچھے بھاگنا، یہاں سافٹ ویئر کو کام دینے سے واقعی وقت بچتا ہے۔ “دوبارہ بک کریں” دبانے میں نہیں۔
- اصل کمی بھروسے کی ہے۔ لوگ ایجنٹ سے ای میل لکھوا لیتے ہیں، مگر کم لوگ اسے بغیر دیکھے پیسے خرچ کرنے دیتے ہیں، اور کمپنیاں یہ مسئلہ ابھی حل نہیں کر پائیں۔
- سرمایہ پھر بھی آ رہا ہے۔ پرسنل اے آئی اسٹارٹ اپ انسٹنکٹ کی قدر آخری فنڈنگ میں 10 ارب ڈالر لگی، اور میٹا کے مطابق اس کا میوز اسسٹنٹ ایک کروڑ صارفین سے آگے نکل گیا، جن میں بہت سے اس سے خریداری کرتے ہیں۔ شرط مستقبل پر ہے، آج کے نمبروں پر نہیں۔
پاکستان کے لیے مطلب
پاکستانی ڈویلپرز اور فری لانسرز کے لیے سبق یہ ہے کہ نشانہ کہاں لگانا ہے۔ اپ ورک اور فائیور پر کلائنٹس ان ایجنٹس کے پیسے دے رہے ہیں جو بورنگ اور سست بیک آفس کام کریں: انوائسز ترتیب دینا، ایک جیسے کسٹمر میسجز کا جواب، کئی ویب سائٹس سے ڈیٹا نکالنا۔ وہ ایسے ایجنٹ کے پیسے نہیں دے رہے جو دو ٹیپ والی ایپ کی جگہ لے۔
عام صارف کے لیے ابھی کچھ نہیں بدلا۔ کریم، بائیکیا اور فوڈ پانڈا کی ایپس ہی سواری یا کھانے کا تیز ترین راستہ رہیں گی۔ اگلے نتائج کے موسم پر نظر رکھیں: اگر ایجنٹس کے آرڈر سینکڑوں سے لاکھوں میں پہنچے تو کہانی بدل جائے گی۔



